پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام پربھارت کو خط لکھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام پربھارت کو خط لکھا دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خط وفاقی سیکرٹری آبی و سائل سید علی مرتضیٰ کی طرف سے بھارتی ہم منصب کو لکھاگیا ہے جس میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق ہی نہیں، بھارتی خط میں معطلی سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ کا معاہدے میں وجود ہی نہیں ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدےکو اپنی اصل شکل میں قائم سمجھتا ہے، سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی طرح کی یک طرفہ چھیڑ چھاڑ کی گنجائش نہیں۔
عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی مؤقف مسترد کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کی کوئی اپیل نہیں کی، پاکستان نے بھارت کی درخواست پر سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کے مطابق مذاکرات پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کا پھیلایا گیا یہ تاثر یکسر بے بنیاد اور غلط ہےکہ پاکستان نے کوئی اپیل کی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔