آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 17،600 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 17،600 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جب کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ 26-2025 پر اہم اہداف طے پاگئے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی آمدن رواں سال تقریبا 17.8 کھرب روپے ہے، آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال میں پاکستان کی مجموعی آمدن 20 کھرب روپے تک لے جانے کیا مطالبہ ہے۔
ذرائع نے کہا کہ بجٹ 2 جون کو پیش کیا جائے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات 23 مئی تک جاری رہیں گے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اگلے بجٹ پر پالیسی سطح کے بجٹ مذاکرات کل شروع ہوں گے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات گذشتہ ہفتے مکمل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 17.
6 ٹریلین روپے کے بجٹ کی منظوری، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط لگا دیں
بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال 6,588 ارب روپے قرض لیا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں پر 1,065 ارب خرچ ہوں گے۔
دفاعی بجٹ 2,414 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے 8,685 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
صوبے 1,220 ارب روپے کا بجٹ سرپلس فراہم کریں گے، آئندہ بجٹ میں نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2,584 ارب روپے لگایا گیا۔
پیٹرولیم لیوی سے 1,311 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1,741 ارب روپے جمع کیے جائیں گے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 1,153 ارب اور سیلز ٹیکس سے 4,943 ارب وصولی کا ہدف ہوگا، ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں 6,470 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔
آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کو 14,307 ارب روپے محصولات کا ہدف دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کیے جائیں گے ارب روپے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔