قومی مفادات اور سیاسی ترجیحات
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو پاکستانی موقف اور بھارت سے جنگ کے دوران ملکی تحفظات سے آگاہی کے لیے پی پی چیئرمین کی سربراہی میں جو پیس ڈیلی گیشن بنایا ہے، اس میں شامل نہ کرنے پر پی ٹی آئی نے اعتراض کیا ہے اور بھارت کی مثال دی ہے کہ وہاں مودی حکومت نے اپوزیشن کو اہمیت دی اور وہاں بھارتی حکومت نے جو سات کمیٹیاں بنائی ہیں۔
ان میں حکومتی پارٹی بی جے پی نے صرف دو کمیٹیوں کی سربراہی اپنے پاس رکھی ہے اور بھارتی اپوزیشن کو پانچ کمیٹیوں کی سربراہی دی گئی ہے۔ اس لیے حکومت پاکستان کو پی ٹی آئی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ قومی مسئلہ ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی کا تو یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو خود اڈیالہ جیل جا کر سزا یافتہ بانی سے ملاقات کر کے موجودہ حالات پر مشاورت کرنی چاہیے تھی جو قومی مفادات کا تقاضا تھا جس سے بھارت کو بھی پیغام جاتا کہ ملک کی تمام جماعتیں بھارت کے خلاف قومی سوچ رکھتی ہیں اور وہاں سب بھارت کے خلاف ایک زبان ہیں۔
وزیر اعظم کے امن وفد میں شامل مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی جن حکومتی قراردادوں کی پی ٹی آئی نے حمایت کی وہ نیم دلانہ تھیں کیونکہ چار مئی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس بریفنگ کا اہتمام کیا تھا وہ فوج کی طرف سے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے تھی مگر پی ٹی آئی نے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس وقت پاکستان بہت تناؤ کا شکار تھا اور اس وقت قومی مفاد پی ٹی آئی کی ترجیح ہونا چاہیے تھا مگر وہ نہیں آئے اور آنے والی جماعتوں کو فوجی ترجمان نے بریفنگ دی جو قومی مفادات کا تقاضا تھا مگر پی ٹی آئی نے اس نازک موقعے کو خود ضایع کیا ۔
پی ٹی آئی اب بیرونی دورے پر جانے والے امن وفد میں شریک نہ کیے جانے پر برہم ہے اور اس کے بعض رہنما وزیر اعظم کو بانی کے پاس جانے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں مگر انھیں نہیں پتا کہ اگر وزیر اعظم ایسا کر بھی لیتے تو اس بات کی کیا گارنٹی تھی کہ ضدی بانی اس وزیر اعظم سے ملنے پر راضی ہو جاتے جن کے وہ خلاف ہیں اور وہ حکومت کو تسلیم نہیں کر رہی ہیں۔
بانی پی ٹی آئی اور ان کے پارٹی عہدیداران تو اب بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی کوئی حیثیت ہے ہی نہیں ، اسی لیے پی ٹی آئی موجودہ حکومت سے مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی اور صرف فوج سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے ۔ ایسی صورت میں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وزیر اعظم ملاقات کے لیے خود اڈیالہ جیل جاتے اور سیاسی مذاکرات پر یقین ہی نہ رکھنے والے بانی پی ٹی آئی اپنی سیاست چمکانے اور ذاتی مفاد کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات سے انکار کر دیتے یا یہ پیشگی شرط عائد کرتے کہ حکومت پہلے انھیں رہا کرے۔ مقدمات واپس لے اور اے پی سی بلائے تو وہ شریک ہوں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اسی نواز شریف کے بھائی ہیں جو 2013 کے الیکشن میں پولنگ سے قبل بانی پی ٹی آئی کے اسٹیج سے گر کر زخمی ہو جانے پر شوکت خانم اسپتال عیادت کے لیے گئے تھے جب کہ بانی کے ذاتی اخلاق کا یہ حال ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے جیل میں قید نواز شریف کو لندن میں بستر مرگ پر پڑی اپنی بیوی سے فون پر آخری گفتگو تک نہیں کرانے دی تھی اور کلثوم نواز کی وفات پر نواز شریف سے اظہار تعزیت گوارا نہ کیا تھا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے سانحہ اے پی ایس پر بانی پی ٹی آئی کو بھی مدعو کیا تھا جب وہ آزاد تھے اور نواز شریف کے خلاف طویل دھرنا دے کر سیاسی طور انھیں اقتدار سے ہٹانے میں ناکام رہے تھے اور انھیں نواز شریف نے اپنے برابر میں بٹھایا تھا اور بانی ان پر ذاتی حملے کیا کرتے تھے۔ تین بار اپنی برطرفی پر نواز شریف نے یہ ضرور کہا تھا کہ مجھے کیوں نکالا اور ان کی نااہلی پر پی ٹی آئی کے متعدد رہنما اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی عدالتی نااہلی غلط تھی مگر جب 2022 میں بانی کو اقتدار سے آئینی طور پر ہٹایا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم پھینک دیا جاتا۔
بانی پی ٹی آئی، ان کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں کا واحد ایجنڈا بانی کی رہائی ہے جس کے لیے وہ دنیا بھر میں مہم بھی چلا رہے ہیں اور ان کے ایک رکن قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ حکومت نے امن وفد میں ہمیں شامل نہیں کیا تو ہم اپنے طور پر دنیا بھر میں جائیں اور بھارتی مہم جوئی کے خلاف بیانیہ کے ساتھ ساتھ بانی کی رہائی کا مطالبہ بھی کریں گے۔
پی ٹی آئی نے قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفاد کے لیے آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض رکوانے کی بھی مذموم کوشش کی تھی جب کہ ان کی حکومت کے باعث شریف فیملی نہیں پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور پی ٹی آئی نہیں چاہتی تھی کہ آئی ایم ایف کے قرض سے پاکستانی معیشت میں بہتری آئے۔
امن وفود کی تشکیل میں بھارت و پاکستان کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ بھارتی اپوزیشن لیڈر جیل میں نہیں اور ان کی پارٹی مودی حکومت کو جعلی کہتی ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی ممبر پارلیمنٹ یا اپوزیشن لیڈر نہیں بلکہ عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان اور اس کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب آزاد اور حکومت کے سخت خلاف ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت پی ٹی آئی کو اپنے امن وفد میں کیسے شامل کرتی؟ اگر کر بھی لیتی تو وفد کے ارکان سرکاری طور پر بیرونی دورے پر جا کر اپنے بانی کی رہائی کا ضرور مطالبہ کرتے اور سیاسی مفاد حاصل کرتے۔ حکومت نے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنا کر اور ایئرچیف کو مدت ملازمت میں توسیع دے کر پی ٹی آئی پر بجلیاں گرا دی ہیں اور اس کی بہت سی خواہشات بھی خاک میں ملا دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کے پی ٹی آئی نے امن وفد میں قومی مفاد اور بھارت نواز شریف حکومت نے رہے ہیں شریف نے کے خلاف ہیں اور تھا کہ اور ان اور اس کے لیے
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔