جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن پیش رفت جاری، معاہدہ جلد متوقع ہے، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن پیش رفت ہو رہی ہے اور حماس کئی اہم معاملات پر رضامند ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ جلد متوقع ہے جس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم زبردست پیش رفت کر رہے ہیں حماس ان نکات سے متفق ہو رہی ہے جو انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی رہنما بشمول ترک صدر رجب طیب اردوان اور اردن کے شاہ عبداللہ نے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یرغمالیوں سے متعلق کسی بھی معاہدے میں سخت مؤقف نہ اپنانے کی ہدایت نہیں دی لیکن مذاکرات کے تمام فریق مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایک بار پھر تجارتی معاہدوں اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے جنگیں روکنے کا دعویٰ دہرایا۔
انہوں نے کہا ko ہم نے تجارت کے ذریعے سات جنگیں روکیں، ان میں سے ایک پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تھی، جس میں سات طیارے گرائے گئے تھے۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ فوجی تعیناتی کے بعد واشنگٹن ڈی سی اب پرامن شہر بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :