پاک فوج کے جذبۂ ایمانی نے بھارت کے اربوں کے دفاعی نظام کو دھول چٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سول اور فوجی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح پر منظور شدہ ایک محتاط لیکن مربوط فوجی آپریشن کے دوران پاکستان نے ہفتے کے روز علی الصباح ایک فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں بھارت کا جدید ترین دفاعی نظام تباہ ہوگیا۔
اس بنائی گئی حکمت عملی کے پیچھے غیر معمولی پلاننگ کے علاوہ قیادت اور فوج کے جذبہ ایمانی کا امتزاج شامل تھا جس کا آغاز آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اس ہائی لیول میٹنگ کے اختتام پر ایک طویل دعا کرکے کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شب وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھارت کیخلاف جوابی کارروائی کی منظوری دی گئی، جس سے نہ صرف بھارت کی دفاعی لائنیں ہل گئیں بلکہ اس کا غرور اور گھمنڈ اور پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے کی ہٹ دھرمی بھی خاک میں مل گئی۔
علی الصبح تقریباً فجر کے وقت، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کیخلاف اپنی مربوط، کثیرالجہتی آپریشن شروع کیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، آپریشن صبح کے اوقات میں شروع کیا گیا۔
اس کارروائی میں اٹھایا گیا ہر قدم ایمان، یقین اور نظم و ضبط کی مثال تھا۔ پہلا میزائل نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے فائر کیا گیا، جو تاریخی اسلامی لڑائیوں کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ بھارت کو اپنے ہائی ٹیک رافیل طیاروں اور ڈیڑھ ارب ڈالر کے جدید ترین ایس 400؍ ایئر ڈیفنس سسٹم پر ناز تھا، جبکہ پاکستان کی دفاعی افواج کی تربیت، نظم و ضبط اور ایمان کی وجہ سے دشمن کی چالیں ناکام ہوگئیں۔
بھارت میں تجزیہ کار پہلے پاکستان کے جس دفاعی ساز و سامان کو اپنے اسلحے کے مقابلے میں کم تر سمجھتے تھے، وہی ساز و سامان ان کیلئے تباہی کا سبب بن گیا۔
پاکستان کی طرف سے اپنے میزائل نظام، ڈرونز، ایئر فورس کے بہترین استعمال کے ساتھ ہمارے جیمنگ ٹولز نے بھارتی دفاعی نظام کو چاروں شانے چت کر دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں اہم بھارتی فوجی اور دفاعی ڈھانچہ بے اثر ہوگیا، کمانڈ سینٹرز خاموش ہوگئے، اور ریڈار سسٹم بیکار ہوگیا۔
بھارتی دفاع بھلے ہی افراتفری کا شکار نہ ہوا ہو لیکن یہ مکمل صدمے کی حالت میں تھا۔ بھارت کو سب سے غیر متوقع دھچکا پاکستان کی سائبر وار سے لگا۔
آئی ٹی کا چیمپئن سمجھے جانے والے بھارت کو پاکستان کے ایک ایسے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا جسے ماہرین پاکستان کی طرف سے کیا جانے والا تاریخ کا سب سے بڑا سائبر اٹیک قرار دے رہے ہیں، حالانکہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کو بھارت کا مد مقابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔
پاکستان نے مواصلاتی لائنوں، ایئر ٹریفک سسٹم اور بھارت کے ڈیجیٹل ڈیفنس کنٹرول کو بھی غیر موثر کر دیا۔ بھارت کی بیشتر دفاعی اور سرکاری ویب سائٹس بھی ہیک کر لی گئیں۔ بھارت کے 70؍ فیصد علاقوں کو بجلی کی بندش کا سامنا رہا۔ سائبر اٹیک کے میدان میں یہ واقعتاً ناقابل یقین بات لگتی ہے۔
تجزیہ کاروں کو پاکستان کی کامیابی اور بھارت کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ دبے الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی حکمت عملی تھی، لیکن کچھ کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اللّٰہ تعالیٰ کی مدد حاصل تھی۔ پاکستان کے فوجی آپریشن میں جو اسلامی جذبہ تھا وہ ناقابل بیان اور یقینی تھا۔
آپریشن کا نام رکھے جانے سے لیکر حملوں سے متعلق لیے گئے ہر قدم پر اسلامی اصولوں کی پیروی کی گئی۔ افسروں اور سپاہیوں نے ہر قدم اٹھانے سے پہلے نعرہ تکبیر بلند کیا، ان کے پاس صرف اسلحے کی طاقت نہیں تھی، بلکہ ایمان اور غیر متزلزل عزم بھی ان کے ساتھ تھا۔
اس کا نتیجہ کیا نکلا: یہی کہ بھارت جو مذاکرات کے ساتھ جنگ بندی کیلئے بھی تیار نہ تھا، وہ نہ صرف جنگ بندی پر آمادہ ہوا بلکہ مذاکرات پر بھی مجبور ہوا۔ برسوں کی اکڑ چند گھنٹوں میں پانی کی طرح بہہ گئی۔
جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گیا ہے اور یہ پاک فوج کا ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللّٰہ میں یقین تھا جس نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل تھا۔
انصار عباسی
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کی بھارت کی بھارت کو
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔