نیتن یاہو غزہ جنگ بندی کے خواہاں، آئندہ ہفتے حماس کے ساتھ معاہدہ طے پا سکتا ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے، جس دوران غزہ اور ایران کی موجودہ صورتحال زیر بحث آئے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ میں جلد جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وہ اسرائیلی وزیراعظم سے اس حوالے سے اہم اور نتیجہ خیز بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو بھی جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔
فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی سے متعلق کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی ممکن ہو، اور یہ معاملہ آئندہ ہفتے کسی بھی وقت حل ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی وزیراعظم صدر ٹرمپ غزہ جنگ بندی نیتن یاہو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو وی نیوز نیتن یاہو
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔