دنیا پور کا نوجوان راؤ طلحہ جاوید پاکستان کا سب سے کم عمر اسسٹنٹ کمشنر بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
سٹی 42 : جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں کے علاقے دنیا پور کا نوجوان راؤ طلحہ جاوید پاکستان کا سب سے کم عمر اسسٹنٹ کمشنر بن گیا ۔
جنوبی پنجاب کا علاقہ دنیا پور ایک بڑی کامیابی کا گواہ بنا، جہاں کے 23 سالہ نوجوان راؤ طلحہ جاوید نے پاکستان کی تاریخ رقم کرتے ہوئے سب سے کم عمر اسسٹنٹ کمشنر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
راؤ طلحہ جاوید نے اپنی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے اور اب انہوں نے باقاعدہ طور پر اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ جنوبی پنجاب خصوصاً لودھراں اور دنیا پور کے نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال بھی ہے کہ محنت، عزم اور لگن کے ساتھ بڑی منزلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
امریکی خاتون اول کا کانسی کا مجسمہ پراسرار طور پر غائب
راؤ طلحہ کی کامیابی نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے، اصل چیز وژن، محنت اور مستقل مزاجی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: راؤ طلحہ جاوید دنیا پور
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔