Juraat:
2026-07-24@09:00:12 GMT

(غیرقانونی ٹینڈر ) ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں ہڑپ

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

(غیرقانونی ٹینڈر ) ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں ہڑپ

ٹنڈوالہیار ضلع کاؤنسل کے چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے جعلی اشتہار شائع کیا،ذرائع
وزیر بلدیات ودیگر افسران کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے ، سماجی تنظیم کادعویٰ

ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں روپے ہڑپ کرنے کا منصوبہ، سپرا آئی ڈی کے بغیر کروڑوں کا ٹینڈر جاری، ٹینڈر میں ترقیاتی کاموں کے دیہات کے نام ہی موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل کے چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کا ایک جعلی اشتہار شایع کیا ہے، اشتہار دو اخبارات میں شایع کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں اشتہار شایع نہیں کیا گیا اور اسٹالز پر موجود اخبارات میں اشتہار موجود ہی نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے چیئرمین میر سھیل تالپور، انجنیئر امداد میرجت اور اکائونٹنٹ معاز شیخ کی ملی بھگت سے ایک پریس سے اشتہار کی کچھ کاپیاں شایع کروائی ہیں، اشتہار سپرا کی ویب سائیٹ پر موجود نہیں اور اشتہار پر سپرا کی آئی ڈی بھی تحریر نہیں کی گئی، اشتہار میں کئی دیہات کے نام ہی موجود نہیں اور مختلف دیہات میں اینٹوں کے فرش کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں۔ سماجی تنظیم سندھ واچ فورم کے چیئرمین چنیسر آریسر نے جرات کو بتایا کہ ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل کے فنڈز ہڑپ کرنے کی مبینہ کوشش پر سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں، پٹیشن میں وزیر بلدیات سعید غنی، چیئرمین میر سھیل تالپور، چیف آفیسر عامر ڈکھن اور دیگر کو فریق بنایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: چیف آفیسر عامر ترقیاتی کاموں کے نام

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف