(غیرقانونی ٹینڈر ) ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں ہڑپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
ٹنڈوالہیار ضلع کاؤنسل کے چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے جعلی اشتہار شائع کیا،ذرائع
وزیر بلدیات ودیگر افسران کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے ، سماجی تنظیم کادعویٰ
ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں روپے ہڑپ کرنے کا منصوبہ، سپرا آئی ڈی کے بغیر کروڑوں کا ٹینڈر جاری، ٹینڈر میں ترقیاتی کاموں کے دیہات کے نام ہی موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل کے چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کا ایک جعلی اشتہار شایع کیا ہے، اشتہار دو اخبارات میں شایع کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں اشتہار شایع نہیں کیا گیا اور اسٹالز پر موجود اخبارات میں اشتہار موجود ہی نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف آفیسر عامر علی ڈکھن نے چیئرمین میر سھیل تالپور، انجنیئر امداد میرجت اور اکائونٹنٹ معاز شیخ کی ملی بھگت سے ایک پریس سے اشتہار کی کچھ کاپیاں شایع کروائی ہیں، اشتہار سپرا کی ویب سائیٹ پر موجود نہیں اور اشتہار پر سپرا کی آئی ڈی بھی تحریر نہیں کی گئی، اشتہار میں کئی دیہات کے نام ہی موجود نہیں اور مختلف دیہات میں اینٹوں کے فرش کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں۔ سماجی تنظیم سندھ واچ فورم کے چیئرمین چنیسر آریسر نے جرات کو بتایا کہ ٹنڈوالھیار ضلع کائونسل کے فنڈز ہڑپ کرنے کی مبینہ کوشش پر سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں، پٹیشن میں وزیر بلدیات سعید غنی، چیئرمین میر سھیل تالپور، چیف آفیسر عامر ڈکھن اور دیگر کو فریق بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: چیف آفیسر عامر ترقیاتی کاموں کے نام
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔