ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی.
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، پراسیکیوشن کیجانب سے وائس میچنگ کیلئے متفرق درخواست دائر کی گئی، عدالت نے پراسیکوشن کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔
پراسیکیوٹر عثمان رانا اور ایمان مزاری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، پراسکیوٹر عثمان رانا نے کہا کہ عدالت کیس کل سماعت کیلئے رکھ لے اور متفرق درخواست پر فیصلہ کرے۔
ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام سپریم کورٹ بار الیکشن کیوجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔