53 سال سے نابینا بن کر فنڈ لینے والا جعل ساز آخر کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی میں 70 سالہ شخص کا نابینا ہونے کا 53 سالہ ڈرامہ بے نقاب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم ہتھیانے والے جعلساز کی چال آخر کار پکڑی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسنزا سے تعلق رکھنے والے اس اطالوی شہری نے نصف صدی سے زائد عرصے تک معذوری فنڈز حاصل کرنے کے لیے نابینا ہونے کا ڈرامہ رچایا۔ اس دوران اس نے مختلف سرکاری اور فلاحی اسکیموں کے ذریعے 10 لاکھ یورو (32 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) وصول کیے۔
رپورٹ کے مطابق 53 سال قبل ایک حادثے کے بعد اسے مکمل طور پر نابینا قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد اس نے اسی جھوٹ کو بنیاد بنا کر مالی امداد لیتے رہنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
تاہم حال ہی میں اٹلی کی مقامی پولیس کو اس پر شک ہوا تو حکام نے خفیہ نگرانی شروع کردی۔ پولیس نے دوران تفتیش اس شخص کی ویڈیوز ریکارڈ کیں جن میں وہ تیز دھار اوزاروں سے باغبانی کرتا اور دکانوں میں جا کر اوزاروں کا باریک بینی سے معائنہ کرتا نظر آیا۔
دو ماہ کی نگرانی کے بعد پولیس کو یقین ہوگیا کہ مذکورہ شخص نابینا نہیں بلکہ جعل سازی کر رہا تھا۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کی تمام مالی امداد منجمد کردی۔
اطالوی حکام کے مطابق ملزم پر ریاست کو دھوکا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جب کہ اس کے خلاف ٹیکس آڈٹ کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پر 2 لاکھ یورو کا ٹیکس جرمانہ عائد کیا گیا ہے، اور استغاثہ نے عدالت سے فردِ جرم عائد کرنے کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔