ویمنز ورلڈکپ: پاکستان اور سری لنکا کا میچ بارش کے باعث منسوخ، قومی ٹیم بغیر کسی فتح کے ایونٹ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
خواتین کرکٹ ورلڈ کپ 2025 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ بارش کی نذر ہوگیا، جس کے بعد قومی ٹیم بغیر کسی کامیابی کے ایونٹ سے باہر ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کو 150 رنز سے شکست، مقابلے سے بھی باہر
کولمبو میں کھیلا جانے والا میچ شام 8 بج کر 6 منٹ پر منسوخ کردیا گیا کیونکہ آؤٹ فیلڈ پانی میں ڈوب چکا تھا اور امپائرز نے بروقت دوبارہ کھیل ممکن نہ ہونے کے باعث کھیل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
میچ کے نتیجے میں سری لنکا نے 5 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان اور بنگلہ دیش پر برتری حاصل کرلی۔ دوسری جانب پاکستان کی ٹیم 7 میں سے 3 میچ بارش کی نذر ہونے کے باوجود کوئی میچ نہ جیت سکی۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ کی انعامی رقم میں ریکارڈ اضافہ
پیشگوئی کے مطابق دن بھر بارش متوقع تھی، جس کے باعث ٹاس 2 گھنٹے 45 منٹ تاخیر سے ہوا۔ میچ کو 34 اوورز فی اننگز تک محدود کیا گیا، لیکن صرف 4.
مسلسل بارش کے باعث دونوں ٹیمیں ایونٹ میں مجموعی طور پر پانچ میچوں کے منسوخ ہونے سے متاثر ہوئیں، جس پر شائقین اور کھلاڑیوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پاکستان خواتین ورلڈ کپ سری لنکا کرکٹ کولمبو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خواتین ورلڈ کپ سری لنکا کرکٹ کولمبو سری لنکا ورلڈ کپ کے باعث
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔