ورلڈکپ 2026 کے لیے پاک بھارت مقابلے کی مبینہ تاریخ جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرے کی مبینہ تاریخ سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ سال ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 8 فروری کو کولمبو میں متوقع ہے۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک جاری رہے گا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کریں گے۔ ورلڈ کپ کے مقابلے بھارت کے کم از کم پانچ اور سری لنکا کے دو شہروں میں منعقد ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق کہ فائنل میچ احمد آباد میں کھیلے جانے کا امکان ہے تاہم پاکستان کے فائنل میں رسائی کی صورت میں فائنل میچ کولمبو میں کھیلا جائے گا۔ واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026 میں مجموعی طور پر 20 ٹیمیں شرکت کریں گی جن کی لائن اپ رواں ماہ ہی مکمل ہوئی ہے۔ دونوں میزبان ممالک کے علاوہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹاپ سات ٹیموں آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، امریکا، افغانستان اور ویسٹ انڈیزنے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔ پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی رینکنگ کی بنیاد پر رسائی حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ ریجنل کوالیفائرز کے ذریعے کینیڈا، نیدرلینڈز، اٹلی، نمیبیا، زمبابوے، نیپال، عمان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں نے رسائی حاصل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ ورلڈ کپ
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔