افرادی قوت کی عالمی تبدیلیوں کے درمیان، تارکین وطن مزدوروں پر بڑھتے ہوئے انحصار کی وجہ سے فرانس غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر ابھر رہا ہے، جن میں بہت سے پاکستانی بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی تھنک ٹینک ٹیرا نووا کی ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ فرانس کو اپنی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے 2040 تک سالانہ 250,000 سے 310,000 غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔

یہ کمی بنیادی طور پر عمر رسیدہ آبادی اور سکڑتی گھریلو افرادی قوت کی وجہ سے ہے۔

صرف 2022 میں، فرانس نے تقریباً 331,000 تارکین وطن کو تسلیم کیا، جبکہ لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آنے والے برسوں میں ان کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

فرانس کو غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت کیوں؟

فرانس کی لیبر امیگریشن اب پالیسی کی ترجیح کا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک ضرورت بن گئی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال، زراعت، تعمیرات اور صفائی جیسے اہم شعبے مزدوروں کی بڑی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

غیر ملکی کارکنان، بشمول پاکستان جیسے ممالک پہلے ہی ان اہم کرداروں کو پورا کرنے کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں۔

تارکین وطن مزدوروں پر انحصار کرنے والے اہم شعبے: صحت کی دیکھ بھال

پیرس اور آس پاس کے علاقوں (Ile-de-France) میں، 60 فیصد سے زیادہ ہیلتھ کیئر سپورٹ اسٹاف غیر ملکی شہری ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 20 فیصد ڈاکٹر بیرون ملک تربیت یافتہ ہیں، جو اس شعبے کے بین الاقوامی ٹیلنٹ پر انحصار کو واضح کرتے ہیں۔

تعمیرات اور زراعت

تعمیرات اور کھیتی باڑی میں کے شعبے، خاص طور پر عارضی ملازمتوں میں مقامی افراد کی عدم دلچسپی وجہ سے غیرملکی تیزی سے ابھر رہے ہیں۔

صفائی کی خدمات

فرانسیسی حکومت شہری حفظان صحت اور عوامی سہولت کے معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے تارکین وطن کارکنوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

میڈیکل پروفیشنلز

فرانس کے پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کا ایک اہم حصہ غیر ملکی یونیورسٹیوں سے آتا ہے، جو غیرملکی ہنر مند کارکنوں پر فرانس کے انحصار کو تقویت دیتا ہے۔

غیر ملکی کارکنوں کے لیے ملازمت کے مواقع

فرانس کو اس وقت کئی اہم صنعتوں میں افرادی قوت میں شدید قلت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ملازمت کے خواہاں پاکستانیوں کے لیے یہ شعبے حقیقی امکانات پیش کرتے ہیں۔

صحت کی دیکھ بھال

ملازمت: نرسیں، جنرل پریکٹیشنرز

اوسط سالانہ تنخواہ: 30,000 –80,000 یورو

تعمیر

ملازمت: مزدور، الیکٹریشن، پلمبر

اوسط سالانہ تنخواہ: 25,000 – 40,000 یورو

زراعت

ملازمت: پھل و سبزی چننے والے، فصل کاٹنے والے

اوسط سالانہ تنخواہ: 20,000 – 28,000 یورو

صفائی کی خدمات

ملازمت: چوکیدار کا عملہ، ہاؤس کیپرز

اوسط سالانہ تنخواہ: 18,000 – 25,000 یورو

ٹیک اینڈ آئی ٹی

ملازمت: ڈویلپرز، انجینئرز

اوسط سالانہ تنخواہ: 40,000 – 70,000 یورو

فرانس کے لیے ورک ویزا کے اختیارات

پاکستان اور دیگر ممالک کے ہنر مند پیشہ ور افراد کے لیے فرانس متعدد ویزا پیش کرتا ہے:

ٹیلنٹ پاسپورٹ (پاسپورٹ ٹیلنٹ)

یہ ویزا اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز، محققین کے علاوہ فنکاروں، اور کاروباری افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ کثیرالمدت ویزا درخواست دہندگان اور ان کے اہل خانہ کو فرانس میں 4 سال تک رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ملازم ویزا (سالاری)

یہ ویزا ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس فرانس میں ملازمت کی تصدیق شدہ پیشکش ہے۔ تاہم یاد رہے کہ کوئی بھی مقامی یا یورپی یونین کا شہری اس پوزیشن کا اہل نہیں ہے۔

موسمی ورکر ویزا

یہ ویزا زراعت یا مہمان نوازی میں قلیل مدتی ملازمتوں کے لیے موزوں ہے۔ یہ ہر سال 6 ماہ تک درست اور قابل تجدید۔

انٹرا کمپنی ٹرانسفر (ICT) ویزا

یہ ویزا کثیر القومی فرموں میں کام کرنے والے ایسے پیشہ ور افراد کے لیے ہے، جنہیں فرانسیسی برانچ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس ویزے کی میعاد ایک سے 3 سال تک ہے۔

EU بلیو کارڈ

یہ کام کی درست پیشکش اور مسابقتی تنخواہ کے ساتھ انتہائی ہنر مند غیر یورپی شہریوں کے لیے ہے۔ EU بلیو کارڈ ممالک میں 4 سال تک رہائش اور نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔

سیکٹر کے لیے مخصوص ویزے

بعض شعبہ جات جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال، بھرتی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ویزا پروگرام تیار کر سکتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے مواقع

مستحکم اور اچھی تنخواہ والی بین الاقوامی ملازمت کے خواہاں پاکستانیوں کے لیے فرانس ایک راستہ پیش کرتا ہے، خاص طور پر ان ضروری شعبوں میں جو مسلسل قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوسط سالانہ تنخواہ غیر ملکی کارکنوں صحت کی دیکھ بھال تارکین وطن رہے ہیں یہ ویزا 000 یورو کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری