لاہور:

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 2024 کے دوران بچوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے جرائم میں سب سے زیادہ اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے مگر ان میں سزا پانے والے مقدمات کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی۔

سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے اغوا کے 68 اور جنسی تشدد کے 48 کیسز رپورٹ ہوئے مگر چالان جمع ہونے کے باوجود بیشتر مقدمات یا تو زیر سماعت ہیں یا زیر تفتیش جبکہ سزا پانے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

رپورٹ اسلام آباد پولیس سے رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت حاصل شدہ اعداد و شمار پر مبنی ہے جس میں بچوں کی اسمگلنگ، کم عمری کی شادی، چائلڈ لیبر، جسمانی تشدد، جنسی تشدد، اغوا، قتل اور چائلڈ پورنو گرافی جیسے آٹھ جرائم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں جسمانی تشدد کے 14، کم عمری کی شادی کے 6، جبکہ بچوں کی اسمگلنگ، قتل اور چائلڈ پورنو گرافی کے دو، دو کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق متعدد مقدمات واپس بھی لے لیے گئے، جو تفتیش کے معیار، شواہد کے حصول اور متاثرین و گواہوں کے تحفظ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ سزاؤں کی کم شرح انصاف کی فراہمی میں گہرے مسائل کو ظاہر کرتی ہے اور جب تک تفتیش، پراسیکیوشن اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں فوری اصلاحات نہیں کی جاتیں، بچوں کے خلاف جرائم بلا خوف جاری رہیں گے۔

انہوں نے خصوصی تفتیشی یونٹس کے قیام، فاسٹ ٹریک عدالتوں اور متاثرین و گواہوں کے مؤثر تحفظ کے لیے پروگرامز شروع کرنے کی سفارش کی، تاکہ انصاف کی فراہمی تیز اور مؤثر بنائی جا سکے۔

مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ بچوں سے متعلق جرائم کا ڈیٹا پولیس اور عدالتیں رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت باقاعدگی سے عوام کے لیے جاری کریں تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچوں کے تشدد کے

پڑھیں:

شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق

 ( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں