مشتاق احمد کی رہائی کا معاملہ؛ دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اسرائیلی حراست سے رہائی کے معاملے پر دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، اردن کے دارالحکومت عمّان میں موجود اپنے سفارت خانے کے ذریعے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ برادر ملک اردن کی حکومت کے قیمتی تعاون سے ہمیں امید ہے کہ یہ عمل آئندہ چند روز میں کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم برادر ملک اردن کی حکومت کے مثالی تعاون اور فراخدلانہ حمایت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
گزشتہ روز بھی دفتر خارجہ نے اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق بیان جاری کیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع کے ذریعے ہم نے تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
ہمیں مزید آگاہ کیا گیا ہے کہ مقامی قانونی طریقہ کار کے تحت سینیٹر مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جب ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو فوری بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی سلامتی اور فوری واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان غزہ کی طرف جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں سوار تھے، اسرائیلی فورسز نے حملہ کرکے مشتاق احمد سمیت بیشتر افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔
قافلے میں شامل درجنوں افراد کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم مشتاق احمد سمیت دیگر افراد اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سابق سینیٹر مشتاق احمد دفتر خارجہ نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔