سہیل آفریدی کا چارسدہ جلسے سے خطاب: ظلم و جبر کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی نے چارسدہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں تیار رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنہوں نے ظلم و جبر کیا ہے، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ چارسدہ کی عوام کے سامنے خطاب اس لیے ضروری تھا کیونکہ یہاں سے ایک سیاسی جماعت کا خاتمہ ہوا، اور خیبرپختونخوا کے عوام ہمیشہ **بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب سے انہیں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا گیا، بعض حلقوں نے کہا کہ وہ قبول نہیں ہیں، لیکن ان کی فکرعوام کے لیے ہے، نہ کہ کسی اور کے لیے۔ سہیل آفریدی نے عوام کی آنکھوں میں انقلاب کی چمک محسوس کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آچکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے دوران ان پر لگائے گئے الزامات، جیسے انہیں دہشت گرد قرار دینا، مسترد کیے اور کہا کہ صحت، تعلیم اور بیوروکریسی میں فیصلے بانی چیئرمین کے وژن کے مطابق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ووٹ بھی بانی چیئرمین کے نام پر آیا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ انہوں نے بانی چیئرمین سے ملاقات کی کوشش کی، لیکن عدالت نے روک دیا، اور اب فیصلہ سڑک پر ہوگا، بند کمروں میں نہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ تیاری رکھیں، پارٹی کی جانب سے جلد ہدایات جاری ہوں گی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ چارسدہ، خیبر اور کرک جانے میں جان کو خطرہ ہے، لیکن ظلم و جبر کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے بانی چیئرمین انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔