دنیا بھر میں ثمر جعفری کے چرچے، نوجوان گلوکار نے بین الاقوامی اعزازاپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
نوجوان گلوکار اور اداکار ثمر جعفری نے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی کی جانب سے "ریڈار پاکستان آرٹسٹ 2025 (چوتھی سہ ماہی)” کے طور پر نامزدگی حاصل کر لی ہے۔
یہ اعزاز نوجوان نسل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کے گانوں کی مقبولیت کے اعتراف کے طور پر دیا گیا ہے۔
اسپاٹیفائی کے مطابق ثمر جعفری کی موسیقی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں مقبول ہو رہی ہے، جن میں بنگلادیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ اعزاز ان کے میوزک کیریئر میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
A post shared by Spotify Pakistan (@spotifypakistan)
رواں سال کے آغاز میں ریلیز ہونے والے ان کے گانے "رہوں” اور "گزارشیں” نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ دونوں گانوں نے مجموعی طور پر 23.
اسپاٹیفائی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ثمر کو اپنے کیرئیر کی اسکول سے شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس میں ان کے اسکول کے زمانے کی جھلکیاں بھی شامل ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔