اسلام آباد:

وفاقی حکومت کی خصوصی کمیٹی نے سرکاری ملازمین کو پنشن اصلاحات، تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرادی جبکہ لیو انکیشمنٹ سے متعلق رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں اگلے ہفتے اجلاس بلایا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر برائے پارلیمانی امور و چیف وہیپ مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزارت خزانہ،وزارت قانون و انصاف اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے افسران سمیت آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اے جی ای جی اے) کے چیف کوآرڈی نیٹر رحمان باجوہ سمیت گرینڈ الائنس کے دیگر عہدے دار شریک ہوئے۔

اجلاس میں سرکاری ملازمین کے مطالبات حل کرنے کے لیے حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان طے پائے گئے تحریری معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد رحمان باجوہ نے’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر طارق فضل نے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کے ساتھ کیے گئے وعدے پر قائم ہے، وزیراعظم امدادی پیکیج اور لیو ان کیشمنٹ سمیت تاجروں کے تمام جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے۔

رحمان باجوہ نے بتایا کہ اجلاس میں وزارت خزانہ حکام نے ملازمین کے ساتھ کئے گئے حکومتی تحریری معاہد ے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے انکا کہنا تھا کہ بجٹ والے دن معاہدے پر عمل درآمد کا پہرا دینے کیلئے ملک بھر سے لاکھوں ملازمین اسلام آباد آئیں گے اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثناء اللہ کو اسی جلسے میں خراج تحسین پیش کیا جائے گا اور ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا لیکن خدانخواستہ اگر عمل درآمد نہ ہوا تو وعدے کے مطابق یہ لو گ بھی دھرنے میں ہمارے ساتھ شریک ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں رحمان باجوہ نے بتایا کہ اجلاس میں کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے یہ بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ سرکاری ملازمین کی لیو ان کیشمنٹ کا معاملہ حل کرنے کیلئے رانا ثناء اللہ کی صدارت میں قائم کمیٹی کااجلاس آئندہ ہفتے بلایاجائے گا اور اس میں یہ معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے طے پایا ہے کہ حکومت اور سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم کے عہدے داران اپنی اپنی ورکنگ کرکے کمیٹی کے اجلاس میں پیش کریں گے اور اس اجلاس میں اس کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات تیار کرکے حکومت کو پیش کی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معاہدے پر عمل درآمد سرکاری ملازمین کے ڈاکٹر طارق فضل رحمان باجوہ یقین دہانی اجلاس میں بتایا کہ جائے گا

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن