سٹی 42 : وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے کم لاگت گھروں کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا ۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزارت ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں پر جائزہ  اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. جس میں وزارت ہاؤسنگ نے وزیرِ اعظم کو وزارت کے مختلف اداروں میں جاری اصلاحات پر پیش رفت اور پالیسی اقدامات سے آگاہ کیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2001 میں ترامیم کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشارت مکمل کرلی گئی اور وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں مارچ 2025 تک اسکی حتمی منظوری کا عمل مکمل ہو جائے گا.

 

لاہور؛ جنوبی چھاؤنی کے علاقے میں جواں سالہ لڑکی اغوا

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کو گھروں کی الاٹمنٹ اور کرایوں کے حصول کیلئے نظام کو ڈیجیٹل کر لیا گیا ہے جس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا اور نظام میں شفافیت آئے گی. 

وزیرِ اعظم کو پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کچلاک کوئٹہ میں 630 کم لاگت رہائشی یونٹس جبکہ اسلام آباد میں 4112 رہائشی یونٹس پر کام تیزی سے جاری ہے. وزیرِ اعظم نے ان منصوبوں کی جلد تکمیل اور تھرڈ پارتی ویلیڈیشن کی ہدایت کی. 

 ایل ڈی اےکوصرف ضلع لاہورتک محدودرکھنےکی سمری تیار

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پشاور میں 5728 کم لاگت رہائشی یونٹس پر جلد کام شروع کیا جائے گا جبکہ مستقبل قریب میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں 5600 رہائشی یونٹس پر کام شروع کیا جائے گا. وزیرِ اعظم نے تمام رہائشی منصوبوں میں اچھی شہرت کی تعمیراتی کمپنیوں کی خدمات لینے کی ہدایت کر دی. 

وزیرِ اعظم کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاوسنگ اتھارٹی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو فیڈرل گورنمنٹ ایپپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کی ڈیجیٹائیزیشن اور اصلاحات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ آن لائن ادائیگی، شکائیتوں کے اذالے کیلئے ڈیجیٹل نظام، ون ونڈو آپریشن، ریئیل ٹائم مانیٹرنگ، جیو ٹیگنگ و دیگر اصلاحات سے نظام میں شفافیت اور تیزی لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. 

محکمہ آرکائیو نے ای لائبریری کا منصوبہ تیار کر لیا

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے کم لاگت گھروں کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیدیا، ساتھ ہی ہاؤسنگ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے نجی شعبے سے اشتراک کی ہدایت کردی ۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ کے منصوبوں کی تعمیر کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کر دی۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور عوام کیلئے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ تعمیراتی کمپنیاں منتخب کی جائیں ، تعمیراتی منصوبوں کیلئے کمپنیوں کا انتخاب شفاف طریقہ کار اور میرٹ پر کیا جائے، تعمیراتی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کیا جائے. 

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری آئندہ ہفتےلاہورپہنچیں گے

اجلاس کو پی ڈبلیو ڈی اور دیگر غیر فعال اداروں کی تحلیل سے بھی آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے پی ڈبلیو ڈی اور دیگر غیر فعال اداروں کی تحلیل سے کرپشن میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا، کہا کہ ملازمین کو موجودہ سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ کے نظام کی ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو کم لاگت رہائش کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے.  

وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کو کم لاگت گھروں کی فراہمی کے منصوبوں میں کرپشن کی کمی کیلئے اصلاحات کا عمل جاری ہے، حکومت کی کوششوں سے پاکستان کا عالمی منظر نامے پر تشخص بحال ہوا ہے، ملک میں بین الاقوامی کرکٹ، دیگر کھیل اور عالمی کانفرنسز کا انعقاد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے مہمانوں کیلئے ملک میں بین الاقوامی معیار کے ہوٹلز، اسپتال اور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی.  

سارہ علی خان نے موٹاپے کو کیسے شکست دی، کہانی سنا دی

وزیرِ اعظم نے وزارت ہاؤسنگ سے بین الاقوامی معیار کی سہولیات کیلئے جامع پلان طلب کر لیا. وزیرِ اعظم نے قومی ہاؤسنگ پالیسی کی مارچ تک تشکیل مکمل کرکے منظور کروانے کی ہدایت کر دی، کہا کہ وزارت کے تحت جاری عوامی رہائشی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ ورکنگ کلاس کو جلد کم لاگت رہائش میسر ہو. وزیرِ اعظم نے وزارت ہاوسنگ و دیگر وزارتوں میں غیر فعال اداروں کی تحلیل و دیگر اصلاحات کیلئے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی، کہا کہ کمیٹی نہ صرف وزارت ہاوسنگ بلکہ دیگر وزارتوں کو بھی اصلاحات میں ضروری معاونت فراہم کرے.  

اجلاس میں وفاقی وزراء ریاض حسین پیرزادہ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بین الاقوامی رہائشی یونٹس کی ہدایت کر منصوبوں کی شہباز شریف کے منصوبوں منصوبوں کو نے کہا کہ کیا جائے اجلاس کو کو جلد

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو