پی پی حکومت کے ہاتھوں کراچی میں تعلیمی نسل کشی نہیں ہونے دینگے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے ہاتھوں کراچی میں تعلیمی نسل کشی ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ انٹر سالِ اوّل کے حالیہ نتائج میں بدترین دھاندلی، ہیر پھر کے خلاف اور کراچی کے طلبہ کے حق کے لیے طلبہ و طالبات اور والدین کے ہمراہ جمعرات 16جنوری کو انٹر بورڈ آفس پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیل مل کی بندش کے بعد گلشن حدید کا پانی بھی بند کر دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، اس غیر انسانی اور غیر قانونی عمل کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا چکی ہے، گلشن حدید کا پانی فوری بحال نہ ہوا تو نیشنل ہائی وے بند کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی سرپرستی میں کھیل کے میدانوں و پارکوں اور کراچی کی زمینوں کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے کے لیے قبضے کیے جا رہے ہیں جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایک بار پھر کراچی میں چائنا کٹنگ کرنے دی جائے گی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ ریڈ لائن پروجیکٹ کی تعمیر سندھ حکومت کی نا اہلی و ناقص منصوبہ بندی کے باعث عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے، قابض میئر ریڈ لائن کی تکمیل میں مزید 2سال لگنے کا عندیہ دینے کے بجائے مستعفیٰ ہوں۔کے سی آر اور ماس ٹرانزٹ کے نام پر عوام کو دھوکا دینا بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس وقت 15ہزار نئی بسوں کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی کے 16سال میں صرف چند سو بسیں چلائی گئیں، نعمت اللہ خان ایڈو وکیٹ کے دور کی ساری بسیں بھی غائب کر دی گئیں، شہر میں ڈمپر اور ٹینکر کی ٹکر سمیت حادثات میں صرف 13دنوں میں 28اموات اور 270افراد کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے کے اوقات کی پابندی کرانا سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس کی ذمے داری ہے لیکن ان کی نا اہلی اور ناکامی کے باعث ہیوی ٹریفک شہریوں کی اموات کا سبب بن رہی ہے۔پانی کی بندش کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران ٹینکرز کے والو کھولنے پر تو سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب سیخ پا ہو گئے تھے لیکن ڈمپرز اور ٹینکرز سے شہریوں کی جانوں کا لاحق خطرات پر وہ خاموش ہیں، آخر کیوں ان کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی؟۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ٹینکرز کے ذریعے مہنگے داموں پانی کی فروخت اور اس مافیا کے خلاف کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کراچی میں منصوبوں کی تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائین مقرر نہیں کی جاتی۔ برسوں کام ہوتا رہتا ہے لیکن مکمل نہیں ہوتا۔ شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہے، ریڈ لائین منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔شہری پانی کے بحران میں مبتلا ہیں اور 19سال سے کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے بعد کراچی کے عوام کے لیے ایک بوند پانی کا اضافہ نہیں کیا گیا اور سندھ پر 16برس سے حکمران رہنے والوں کو شرم نہیں آتی۔بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ کراچی کی ترقی کوپورا سندھ مانتا ہے۔ کراچی کی تباہی و بربادی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم برابر کی شریک ہیں۔ایم کیو ایم ہر دور میں اقتدار اور وزارتوں میں اپنا حصہ لیتی رہی ہے، آج بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے لیکن اس نے کراچی کے عوام کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا۔
منعم ظفر نے کہا کہ صرف جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جس نے کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے اور آئندہ بھی اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔ منعم ظفر خان
انہوں نے اتوار کو سی ویو پر غزہ مارچ میں شہریوں کی فیملیز کے ساتھ بھر پور شرکت پر اہل کراچی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ان کے دل اہل غزہ و فلسطین کے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اہل غزہ سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے خلاف احتجاج کا ہر ذریعہ استعمال کریں اور بھر پور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف دباؤ پیدا ہو۔ اس کے لیے سوشل میڈیا کو بھی استعمال کریں اور ایک قومی مہم اور تحریک کی صورت میں اسرائیلی مصنوعات اور ان ساری مصنوعات کا بائیکاٹ کریں جن کا فائدہ براہ راست اسرائیل کو ہوتا ہے۔
امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پاکستان بزنس فورم کے پلیٹ فارم سے 18اور 19جنوری کو ایکسپو سینٹر میں”میرا برانڈ پاکستان نمائش“ کا اہتمام کیا ہے، اس کے ذریعے عوام کو غیر ملکی مصنوعات کا متبادل اور پاکستانی مصنوعات کو فروغ ملے گا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نمائش کا افتتاح کریں گے۔ اس نمائش سے حاصل شدہ نفع اہل غزہ کی امداد اور ریلیف کے فنڈز میں شامل کیا جائے گا۔ عوام اس نمائش میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھر پور شرکت کریں۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ اس وقت کراچی کے طلبہ کی تعلیمی نسل کشی کی جارہی ہے۔فرسٹ ایئر کے نتائج نے اسے دوجمع دو کی طرح واضح کردیا ہے، ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان نتائج میں جو دھاندلی کی گئی اس کا حل یہ ہے کہ اسکروٹنی کے عمل کو شفا ف کیا جائے، اسکروٹنی کی جائے، فیس معاف کی جائے اور طلبا کو ان کی کاپی دکھا ئی جائے تاکہ طلبہ میں اطمینان پیدا ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتے پہلے بورڈنے کمیٹی تو بنادی لیکن ابھی تک عملاً اس کمیٹی کاکوئی کردار نظر نہیں آرہا، اس حوالے سے حکومت کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں،لیکن صرف کمیٹیاں بنانے سے کام نہیں چلے گا،اس کمیٹی کے ٹی اوآر ز بنائے جائیں، ٹائم فریم دیا جائے۔
منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی ان تمام طلبا کے ساتھ ہے جو اس وقت اذیت سے گزررہے ہیں، اس سے نجات دلائی جائے۔جماعت اسلامی نے ادارہ نور حق میں طلبا کے لیے ایک ڈیسک قائم کردی ہے، جہاں روزانہ بڑی تعدادمیں طلبا اپنے مسائل لے کر آ رہے ہیں۔آج سے ضلع کے سطح پر یہ ڈیسک قائم کررہے ہیں اور گوگل پربھی لنک دیں گے جس کے ذریعے بھی طلبا اپنے مسائل بیان کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں جگہ جگہ غیرقانونی ہائیڈرنٹ بنے ہوئے ہیں جہاں سے لوگوں کو پانی بیچا جارہا ہے۔شہر کے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے، 4ہزار کا ٹینکر 12ہزار میں بیچا جارہا ہے۔گلشن حدید میں جماعت اسلامی کے یونین کونسل کے وارڈ ممبران نے درخواست جمع کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی کا ٹاؤن چیئرمین کے تھری کی گزرنے والی لائن سے کنڈا ڈال کر پانی سپلائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کے میدانوں،پارکوں پر قبضے کیے جارہے ہیں،کلفٹن بلاک ٹو میں عمر شریف پارک میں مسلح افراد بٹھاکر کنسٹرکشن شروع کردگئی ہے۔عوام کی مزاحمت پر کام روکا گیا ہے۔سنگم گراونڈجونعمت اللہ خان کے دور میں بحال کیا گیا اس پر بھی ان کی نظریں ہیں۔کہتے ہیں کہ اے ڈی پی کے پیسوں سے ہم اس کی تعمیر کریں گے، تعمیر نہیں بلکہ کمرشل بنیادوں پر ان کھیلوں کے میدانوں کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔لوگ پیسے دیے بغیر گراؤنڈ بک نہیں کراسکتے، یہ سارا دھندہ پیپلز پارٹی کی سرپرستی میں جاری ہے۔
پریس کانفرنس میں جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی کراچی توفیق الدین صدیقی،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سٹی کونسل قاضی صدر الدین، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، نائب صدر پبلک ایڈ کمیٹی عمران شاہد بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کراچی میں کیا جائے نہیں کی کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی