WE News:
2026-07-24@13:40:38 GMT

بے رحم کمانڈرز اور افغانستان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT

بے رحم کمانڈرز اور افغانستان

افغانستان کی موجودہ طالبان لیڈرشپ کے آپسی اختلافات کی وجہ سے ایک بار پھر افغانستان کے مستقبل پر خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک مبینہ آڈیو پیغام میں افغان طالبان رہنما ملا ھیبت اللہ صاحب کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ کفار آپ کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اگر آپ موجودہ اسلامی نظام کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو قید و بند کے ساتھ شہادتوں کے لیے بھی تیار رہیں۔

بدقسمت افغانوں کو 50سال میں کئی بار حالات بدلنے کا موقع ملا مگر افغان رہنماؤں کی اندرونی کشمکش کی وجہ سے ان موقعوں سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔ 1989 میں سابقہ سویت یونین کی شکست کے محض 2،3سال بعد 1992 میں اندرونی لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ 1989 میں گلبدین حکمتیار نے روس کی شکست کو اسلام کی فتح قرار دیا مگر محض 3،4سال بعد 1992/93 میں اندرونی لڑائی کے دور میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری لڑائی صرف روسیوں سے نہیں بلکہ ان غداروں سے بھی ہے جو افغانستان کو کمزور کررہے ہیں۔

آپسی لڑائی میں مرحوم احمد شاہ مسعود، عبد الرب رسول سیاف اور رشید دوستم بھی اہم کردار تھے۔ عبد الرب رسول سیاف نے بھی اسلام کے نام پر جہاد لڑا مگر آپسی لڑائی میں ان کے جہاد کا بھی زاویہ بدل گیا تھا اور ایک جگہ کہا کہ جو ہمارے حکم کے خلاف ہے وہ اسلام کے خلاف ہے۔ یعنی بقول ان کے سیاف صاحب بھی وہ ہستی بنے جن کی حکم عدولی کی وجہ سے اسلام خطرے میں آگیا تھا۔

رشید دوستم افغان اندرونی لڑائی میں سب سے بے رحم کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد انہوں نے افغانستان کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا جہاں انہوں نے ایک الگ دنیا بنانے کی کوشش کی تھی۔ دوستم کے افغانستان کے حوالے سے خیالات و نظریات بالکل الگ تھے جن کا وہ کچھ اس انداز میں اظہار کرتے تھے، کہ افغانستان کوئی ملک نہیں ہے بلکہ یہ ایک جنگل ہے جہاں طاقتور ہی زندہ رہتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق گلبدین حکمتیار کے حزبِ اسلامی نے صرف کابل کے شہری علاقے پر 4ہزار سے زائد راکٹ برسائے تھے جس کی وجہ سے 70فیصد کابل شہر کھنڈر بن گیا۔ آپسی لڑائی میں ایک لاکھ سے زائد افغان مارے گئے، دارالحکومت کابل کے 50ہزار شہری لقمہ اجل بنے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مطابق یہ وہ دور بنا جہاں خواتین محفوظ نہیں رہی اور بچوں کو زبردستی سپاہی بھرتی کیا گیا۔

جن کی خواہش ہوکہ افغانستان میں اندرونی جنگیں ہونی چاہییں انہوں نے جنگ نہیں دیکھی، انہوں نے جنگوں کے دوران بچوں اور عورتوں کو پیش آنے والے حالات نہیں دیکھے اور ہم قبائلی اس سارے عمل سے گزر چکے ہیں۔ ہمارے لیے افغانستان میں امن و استحکام ہمارے علاقے کا امن و سکون ہے لیکن زمینی حقائق ہماری خواہشات کو مایوسی میں بدلنے کا سبب بن رہی ہیں۔

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے خوست میں ایک اسلامی مدرسے کی منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ نظام کو اسلامی نظام کے بجائے خواہشات پر مبنی نظام قرار دیا۔ شیر محمد عباس ستانکزئی افغان خواتین کے تعلیم کی حمایت کرتے آرہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عباس ستانکزئی کو ملک چھوڑ کر دبئی جانا پڑا۔ خبروں کے مطابق ملا ھیبت اللہ نے عباس ستانکزئی کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے اور ستانکزئی کو نکلنے میں ملا یعقوب نے مدد کی۔ عباس ستانکزئی وہ بات کررہے تھے جو 99فیصد افغان چاہتے ہیں، اگر آپ خواتین کی تعلیم پر اس طرح کی پابندیاں عائد کردیں گے تو آج کی جدید دنیا کے ساتھ کیسے چل پائیں گے؟

خواتین کو گھروں میں محبوس رکھنا اسلامی ہے؟ ہمارے سامنے اسلامی تاریخ کے سب سے رحم دل حکمران حضرت عمر فاروق کی زندگی مشعلِ راہ ہونی چاہیے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم حقیقتاً اسلامی نظام قائم رکھنا چاہتے ہیں، توحضرت عمر فاروق ہی کے دور کا واقع یاد کرلیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منبر پر خطاب کے دوران ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا۔

اے عمر! اللہ سے ڈرو، حاضرین نے خاتون کو روکنے کی کوشش کی، لیکن عمر فاروق نے فرمایا کہ انہیں بولنے دو۔ اگر یہ نہیں بولیں گی تو ہماری کوئی ضرورت نہیں، اور اگر ہم نہیں سنیں گے تو خدا کو کیا جواب دیں گے؟

پوچھنے پر عورت نے کہا کہ آپ نے مہر کی حد مقرر کی ہے، حالانکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے (مہرمیں) ڈھیر سارا مال بھی دے دیا ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (النساء: ۲۰)

حضرت عمر فاروق نے فوراً تسلیم کیا کہ میں غلطی پر ہوں اور عورت نے جو کہا وہ درست ہے۔ کیا اس وقت کے افغان حکمران سے کوئی افغان خاتون ایسا سوال پوچھ سکتی ہے؟

اس وقت حالات بالکل برعکس ہیں اگر آپ اسلامی نظام قائم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں تو آپ کو رعایا کو وہی حقوق دینے ہوں گے جو اسلام نےان کو دے ہیں اور خواتین معاشرے کا وہ حصہ ہیں جو سب سے زیادہ قابلِ احترام ہونا چاہیے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں خواتین نے مردوں کے برابر کردار ادا کیا ہے اور آپ کم از کم خواتین کو علم حاصل کرنے کی آزادی تو دے سکتے ہیں۔ یہ بھی سچائی ہے کہ عالمی طاقتوں کو ایک خطہ ایسا چاہیے ہوتا ہے جہاں جنگ ہو فساد ہو جس کی وجہ سے ان کے مذموم مقاصد پورے ہورہے ہوں مگر سوال یہ ہے کہ وہ موقع آپ خود کیوں دے رہے ہیں؟

اس وقت افغانستان کے اندر سے آپ کی اپنی جماعت کے لوگ کیوں سوال اٹھا رہے ہیں؟ کیا ملا ھیبت اللہ صاحب واقعی ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر رہے گا؟

اگر آپ زور زبردستی اور خوف پر مبنی افغانستان قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس سے افغانستان کا مستقبل خطرے میں ہی رہے گا وہ بھی ایسی صورت میں جب طالبان کی اندرونی صفوں میں اس طرح کے بنیادی اختلافات موجود ہوں۔

افغان لیڈرشپ کو اب سمجھنا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے اور افغان عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات چاہییں بصورت دیگر آپ افغانستان کو مکمل انارکی کے حوالے کرنے کا سبب بنیں گے اور تاریخ آپ کو بھی ان افغانوں میں یاد رکھے گی جنہوں نے ذاتی خواہشات کو اسلام کا نام دے کر افغانوں کو جنگوں کے حوالے کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شہریار محسود

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عباس ستانکزئی افغانستان کے اسلامی نظام چاہتے ہیں عمر فاروق لڑائی میں کی وجہ سے انہوں نے رہے ہیں اگر آپ

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔

طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر

3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات

ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے

سنہ1983  میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7

— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026

جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جماعت اسلامی میں اہم مناصب

امیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تنظیمی سیاست کے معمار

اگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔

فکری اور صحافتی خدمات

تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے