Jasarat News:
2026-07-24@13:41:19 GMT

اہل کشمیر کی جدوجہد

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT

اہل کشمیر کی جدوجہد

مقبوضہ وادیِ کشمیر میں گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے سے جاری بھارتی جبر و تسلط کے خلاف کشمیری عوام 5 فروری کو پاکستان، بھارت اور مقبوضہ وادی سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال یہ دن سرکاری اور نجی سطح پر خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس کا مقصد بھارتی مظالم کی جانب اقوام عالم کی توجہ مرکوز کرانا ہے۔ ہر سال مقبوضہ وادی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان کے ساتھ اظہار محبت کیا جاتا ہے اور آج بھی مقبوضہ وادی میں پاکستان سے محبت اور یکجہتی کے اظہار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں کا عرصۂ حیات تنگ کرنے کے جن ریاستی ہتھکنڈوں کا آغاز کیا۔ ان کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور کالے قانون کے تحت کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں اور اس دوران نہتے کشمیریوں کو بے دریغ گولیوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

یوم یک جہتی کشمیر ہر سال حکومت کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے جس میں قومی سیاسی جماعتوں سمیت پوری قوم شریک ہو کر غاصب بھارت کو یہ ٹھوس پیغام دیتی ہے کہ کشمیر پر اس کا تسلط بزور قائم نہیں رہ سکتا اور یو این قراردادوں کی روشنی میں استصواب کے ذریعے کشمیری عوام کو بالآخر خود ہی اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ کشمیری عوام نے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے، ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکر و فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، اس کی پوری دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں۔ اس خطے پر آزادی کی کوئی تحریک نہ اتنی دیر تک چل پائی ہے، نہ آزادی کی کسی تحریک میں کشمیری عوام کی طرح لاکھوں شہادتوں کے نذرانے پیش کیے گئے ہیں اور نہ ہی آزادی کی کسی تحریک میں عفت مآب خواتین نے اپنی عصمتوں کی اتنی قربانیاں دی ہیں جتنی کشمیری خواتین اب تک ظالم بھارتی فورسز کے ہاتھوںاپنی عصمتوں کی قربانیاں دے چکی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے منزل بھی متعین ہے۔ اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل و استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے درمے قدمے سخنے ہی نہیں، عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا جبکہ بانیِ پاکستان قائداعظم نے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور جب اس شہ رگ پر 1948ء میں بھارت نے زبردستی اپنی فوجیں داخل کرکے تسلط جمایا تو قائداعظم نے افواج پاکستان کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو دشمن سے شہ رگ پاکستان کا قبضہ چھڑانے کے لیے کشمیر پر چڑھائی کا حکم بھی دیا۔ گریسی نے اس حکم پر عمل کیا ہوتا تو کشمیرکا مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا جبکہ بھارت نے کشمیر پر جبراً قبضہ جما کر وادیِ کشمیر کو متنازع بنایا اور پھر خود ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا۔ جس پر یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور کشمیر میں استصواب کے اہتمام کا حکم دیا تو بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے سمیت جو بھی ہو سکتا ہے، کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی تسلط کبھی قبول نہیں کیا۔ کشمیری عوام کسی ظلم، درندگی اور سفاکیت کو خاطر میں نہ لائے تو 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے شب خون مار کر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور اسے بھارت میں ضم کردیا جس کے بعد کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے مقبوضہ وادی میں مزید بھارتی فوج بھجوا کر کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔

آج مقبوضہ وادی میں بھارتی محاصرے کو 1644 دن گزر چکے ہیں مگر کشمیریوں کے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ کشمیری حق آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ جبکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 76 سال سے جاری اس کے مظالم روکنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اب تک کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔ نتیجتاً ہندوتوا کے ایجنڈے پر گامزن بھارت کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ اس نے کشمیریوں کے استصواب کے حق کے لیے یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی منظور شدہ درجن بھر قراردادوں کو عملی جامہ پہنانا تو کجا، انہیں پرِکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی۔ پاکستان نے شروع دن سے ہی کشمیر پر یہ اصولی موقف اپنایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو خود کرنا ہے اس لیے اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں دیے گئے استصواب کے حق کو تسلیم کر کے بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کے لیے رائے شماری کا اہتمام کرے مگر بھارت نے آج تک کشمیریوں کو استصواب کے حق سے محروم رکھا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ استصواب کی صورت میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ پاکستان بھی ان کے اسی صادق جذبے کی لاج رکھتے ہوئے ان کی جدوجہد میں ان کا دامے درمے قدمے سخنے اور سفارتی محاذ پر بھرپور ساتھ دے رہا ہے جس کا بھارت سرکار نے بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور اسے سانحۂ سقوط ڈھاکا سے دوچار کیا جس کے بعد وہ باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک بالخصوص بڑی طاقتوں کی قیادتوں کے لیے یہ لمحہ فکر ہے کہ وہ دنیا کے تنازعات حل کرانے کے لیے اب تک اقوام متحدہ کو کیوں فعال نہیں بنا پائے۔ علاقائی اور عالم امن کی خاطر کشمیر، فلسطین، افغانستان اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ترجیح اول ہونی چاہیے۔ یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد بھی اقوام متحدہ اور اس کے رکن بالخصوص بڑے ممالک کی توجہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں کشمیری عوام مقبوضہ وادی میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کشمیر اقوام متحدہ استصواب کے کی جدوجہد کے ساتھ ا ا زادی کی کشمیر کی بھارت نے اور اس کے لیے

پڑھیں:

 بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف

ویب ڈیسک :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بلوچستا ن میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مشترکہ مسکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا، وزیراعظم کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت پنجاب نے بلوچستان کے لیے 150 ارب روپے کا حصہ دیا، جبکہ دیگر تین صوبوں نے بھی بلوچستان کے مفاد میں اپنا حصہ ڈالا، یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی بھائی چارے اور یکجہتی کی مثال ہے۔

اوپن مارکیٹ میں مہنگائی برقرار، آٹا، گھی اور دالیں مہنگی

شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے اور بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے میں زرعی اور توانائی کے شعبوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ 

 وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں 90 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔

پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا