WE News:
2026-07-24@13:41:13 GMT

کیا کوئٹہ میں اسٹریٹ کرائم فری شہر ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT

کیا کوئٹہ میں اسٹریٹ کرائم فری شہر ہے؟

بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جہاں گزشتہ برس دہشتگردی کی لپیٹ میں رہا وہیں سال 2025 بھی عوام کے لئے نئی مشکلات لے کر آیا ہے۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے بعد شہر اب سٹریٹ کرائم کی بھی زد میں آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار پر 5 افراد گرفتار

محکمہ پولیس بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے ماہ کے دوران کوئٹہ میں قتل کے 10،اغواءکے 19،ڈکیتی کے 4،چوری کے 18 جبکہ لوٹ مار کے21 واقعات رپورٹ ہوئے۔

اس کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل کا ایک ،گاڑیاں چھیننے اور چوری کے 6 جبکہ موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے۔

جرائم کے ان بڑھتے واقعات کے پیش نظر پولیس کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیس نے ماہ جنوری میں مختلف واقعات میں541 افراد کو نامزد کیا جبکہ 300 سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔

پہلے ماہ کے دوران 6 گاڑیاں جبکہ 29 موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں، جرائم کے ان بڑھتے واقعات پر متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ کا اعتراف

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، لیکن پولیس نے بروقت کارروائیاں کر کے چوری شدہ مال کو ریکور بھی کیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ  کے مطابق گزشتہ ماہ سر یاب میں ہو نے والی چوری کی واردات میں ہمیں کا میابی ملی۔ چند روز قبل گاڑی چھینے والوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لے لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس عوام سے اپیل کرتی ہے کہ ان واقعات کو رپورٹ کریں عوام اور پولیس مل کر ان عناصر کو ختم کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب عوام کا مؤقف ہے کہ شہر میں دہشتگردی کی وجہ سے عام آدمی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا تھا، ایسے میں سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ شہرمیں اسٹریٹ کرائم کے واقعات بھی بڑھنے لگے۔

بات کریں اگر شہر میں چھینا چھپٹی کی وارداتوں کی تو اہم شاہراہیں راہزنوں کا گڑھ بنی ہوئی ہیں، جبکہ شہر کے غیر آباد علا قے رات کے اوقات میں نو گو ایریا بن جا تے ہیں۔

شہر میں سیکورٹی کی صورتحال تو یہ ہے کہ اربوں روپے سے سیف سٹی پروجیکٹ کے نام پر لگائے گئے کیمروں میں متعدد ناکارہ ہیں۔ ایسے میں اسٹریٹ کرائم سے تحفظ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ رات کے اوقات میں گشت کو بڑھا یا جائے تاکہ چوری چکاری کے واقعات کم ہو سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹریٹ کرائم ایس ایس پی آپریشنز دہشتگردی کوئٹہ محمد بلوچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹ کرائم ایس ایس پی آپریشنز دہشتگردی کوئٹہ محمد بلوچ ایس ایس پی آپریشنز اسٹریٹ کرائم کے مطابق

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار