عالمی فوجداری عدالت کی ٹرمپ کی پابندیوں کی مذمت، ممبر ریاستوں سے متحد ہونے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں پر عالمی فوجداری عدالت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت نے انصاف کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عملے کے ساتھ بھرپور حمایت کے ساتھ کھڑی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے اپنی تمام 125 ممبر ریاستوں کو دنیا بھر سے انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پر ہی پابندیاں لگادیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی فوجداری عدالت ٹرمپ کی
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔