فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کی سازشیں ناکام بنا دینگے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تینظیم حماس نے امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی زمین سے بیدخل کرنے کی سازشیں ناکام بنا دینگے۔ اسلام ٹائمز۔ حماس کے سیاسی ونگ کے رکن Ezzat El Rashq نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ خریدنے اور ملکیت بنانے سے متعلق بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ حماس نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی زمین سے بیدخل کرنے کی سازشیں ناکام بنا دیں گے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کے بیان پر قائم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانے پر تیار ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو زمین کے کچھ حصے دینے پر غور کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہاں دوبارہ تعمیر کے عمل میں مدد لی جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔