اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں بارش اور برفباری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک موسم کی پیشگوئی کی ہے جبکہ کئی علاقوں میں بارش اور برفباری بھی متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سوات میں آسمان سے سفید گالوں کی برسات شروع ہو چکی ہے، اور کالام اور مالم جبہ میں شدید برفباری کا نیا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم، لاہور سمیت کئی شہروں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی چند مقامات پر بارش و برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا، تاہم ان علاقوں میں بارش یا برفباری کی پیشگوئی نہیں کی گئی۔ گزشتہ روز لہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اسکردو، استور، پاراچنار میں منفی 4، ہنزہ اور بگروٹ میں منفی 2 اور کالام میں منفی 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ سوات میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے وادی کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد نے سوات کا رخ کیا ہے تاکہ برفباری کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برفباری کا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔