حادثات میں خاتون ،بچوں سمیت 7افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوںمیں حادثات واقعات میں خاتون اور بچوں سمیت 7افراد جاںبحق ہوگئے ،دیگر واقعات میںدو افراد زخمی ہوا ۔تفصیلات کے مطابق ڈیفنس فیز 7 نجی صفاء یونیورسٹی کے قریب گیسٹ ہاؤس میں گولی لگنے سے 30 سالہ مصطفی ولد کوثرٰ نامی نوجوان جاںبحق ہوگیا ۔فائرنگ میں ایک شخص40سالہ مجاہد ولد علی خان بھی زخمی ہوا ،واقعہ لین دین کے تنازہ کا شاخسانہ بتایا جارہا ہے ، پولیس نے فائرنگ میں ملوث ملزم مجاہد کوحراست میں لے لیا ، ایک شخص موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ کورنگی الیاس گوٹھ رکشہ اسٹینڈ کے قریب تیز رفتار گاڑی کی زد میں اکر راہگیر بچی 7سالہ زرگونہ دختر گل محمد جاں بحق ہوگئی ،متوفیہ کی لاش کو جناح اسپتال سے ضابطہ کی کاروائی کے بعد ورثاء کے سپر د کر دیا گیا ۔ پی آئی بی کالونی تھانے کی حدود عیسیٰ نگری قبرستان کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے راہگیر بزرگ خاتون جاں بحق ہوگئی۔ لاش کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون کی شناخت 65 سالہ فاطمہ کے نام سے کی گئی ،حادثہ سڑک عبور کرتے ہوئے تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے پیش آیا ۔تاہم پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ناظم آباد انڈر پاس کے قریب ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والا55سالہ شخص (دوران علاج) جناح ہسپتال میں آج دم توڑ گیا ۔ پیر آباد تھانے کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر 7/C شاہ نواز بھٹو کالونی رینجرز چوکی کے قریب کمپنی میں کام کے دوران لینڈ سلائیڈنگ سے 42 سالہ غنی الرحمن ولد حاجی خیر زمان جاںبحق ہوگیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔