آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد کا موسمیاتی تبدیلیوں کیلیے ترقیاتی منصوبوں کو جیو ٹیگ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد نے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو جیو ٹیگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے تکنیکی وفد کی صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کے حکام سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جبکہ آئی ایم ایف کا وفد کل(منگل) صوبہ پنجاب اور بلوچستان کے حکام سے مذاکرات کرے گا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکام سے ہونے والی ملاقات میں آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو جیو ٹیگ کرنے کا مطالبہ ہے اور صوبوں کو کہا گیا ہے مختلف منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے رکھی گئی رقم اور استعمال کو جیو ٹیگ کیا جائے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے جنگلات اور آبی گزرگاہوں کے نزدیک نئی تعمیرات روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ نئی تعمیرات میں روشنی اور ہوا کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جائے جبکہ قدرتی آفات سے بروقت نمٹنے کے لیے استعداد کو بہتر بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلیوں آئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔