تم تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہو
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
امریکا فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور طاقتور ترین فوجی قوت ہے۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ امریکا دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے۔جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے 40 سے کچھ اوپر دنوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
20جنوری کو عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی انھوں نے یہ کہہ کر تلاطم برپا کر دیا کہ کینیڈا کو اپنی آزاد ریاستی حیثیت ختم کر کے امریکا کی ایک ریاست بن جانا چاہیے۔جناب ٹرمپ نے گرین لینڈ پر زورِ بازو سے قبضہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ۔اس کے ساتھ ہی پانامہ کینال کو امریکی عملداری میں لینے کا بھی اعلان کیا۔یہ سب تو ہو ہی رہا تھا لیکن ٹرمپ اور پیوٹن کی اعلانیہ دوستی کی وجہ سے یوکرین جو کہ امریکا کے ایما اور شہہ پر روس سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے منتخب صدر کو نشانے پر لے لیا گیا۔
جناب ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ڈکٹیٹر کہا اور یہ کہ وہ ایک درمیانے درجے کے کامیڈین ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یورپین یونین بنائی ہی اس لیے گئی کہ امریکا کو exploitکر کے فائدے حاصل کیے جائیں۔ انھوں نے یورپین یونین پر ٹیرف عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا۔
جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ اعلانات و اقدامات بہت بڑا تلاطم ہیں۔یہ وہ تبدیلی ہے جس سے 1945سے قائم نام نہاد ورلڈ آرڈر تل پٹ ہو سکتا ہے۔دوسری عالمی جنگ میں یورپ کی تباہی کے بعد امریکا نے مارشل پلان کے تحت برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے تباہ حال یورپی ممالک کو ان کے پاؤں پر کھڑا کیا۔امریکا یورپ کی سلامتی کا ضامن اور نیٹو اتحاد کا روحِ روان بنا۔1945سے لے کر امریکا یورپ کے لیے دفاعی چھتری ہی نہیں بنا رہا بلکہ تمام بین الاقوامی فورمز پر امریکا اور یورپ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔
یورپ نے تمام توجہ معیشت بحالی پر رکھی۔اسے دفاع پر کچھ زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑا۔یہ غالباً پہلی بار ہو رہا ہے کہ امریکا یورپ سے کہہ رہا ہے کہ اپنے دفاع پر زیادہ خرچ کرتے ہوئے ذمے داری اُٹھاؤ۔پچھلی تمام امریکی حکومتیں نیٹو اتحاد میں نئے یورپی ممالک کو شامل کر کے روسی سرحدوں کے قریب سے قریب ہونے کی کوشش کرتی نظر آئیں۔یوکرین کی سرحدیں روس سے ملتی ہیں۔اگر یوکرین نیٹو اتحاد کا ممبر بن جائے تو نیٹو افواج روس کی سرحدوں پر پہنچ جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب یوکرین نے امریکی اشارے پر نیٹو اتحاد کا ممبر بننے کے لیے درخواست کی تو پہلے تو روس خبردار کرتا رہا اور پھر فروری2022کو یوکرین پر چڑھائی کر دی۔ایسے میں امریکا اور یورپ یوکرین کی پشت پر کھڑے ہو گئے۔اسی پشت پناہی کی بدولت یوکرین اس جنگ کو تین سالوں تک جاری رکھنے میں کامیاب ہوا۔نیٹو ممبرشپ بہرحال نہ ہو سکی اور اب ٹرمپ نے اس تجویز کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔
جناب ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے شاید یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ روس کو اپنا ہمنوا بنانا ہے۔سرد جنگ سے اب تک امریکا اور یورپ ایک مضبوط بلاک کی طرح متحد رہے ہیں اور روس کو انھوں نے ایک دشمن کے روپ میں دیکھا ہے لیکن جناب ٹرمپ ماضی کی سوچ کو دفن کرتے نظر آتے ہیں۔
بظاہر تو وہ یہ اقدام چین کے خلاف نہیں اٹھا رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ حالیہ عشروں میں چین ہی امریکا کے نشانے پررہا ہے اور چین کو ہی اصلی حریف گردانا جاتا ہے۔روس،یوکرین جنگ میں چین کی حمایت کا طلب گار رہا ہے۔شمالی کوریا چین ہی کی وجہ سے روس کو فوجی افرادی قوت مہیا کر رہا ہے۔امریکا چاہتا ہے کہ روس اور چین اکٹھے نہ ہوں،ان دونوں بڑے ممالک کے درمیان دوری پیدا ہو تاکہ چین روس بلاک ٹوٹ جائے۔چین کو ہر حال میں Containکرنا امریکا کی پہلی ترجیح ہے۔
28فروری2025 سے پہلے فرانس اور برطانیہ کے حکمرانوں نے واشنگٹن کا دورہ کر کے جناب ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ امریکا یوکرین کی فوجی اور مالی امداد کو جاری رکھتے ہوئے سیکیورٹی گارنٹی دے۔ان دونوں کے دورے کے بعد یوکرین کے صدر زیلنسکی جناب ٹرمپ سے ملنے وائٹ ہاؤس پہنچے۔ چونکہ صدر ٹرمپ،زیلنسکی کے خلاف بولتے رہے تھے۔
اس لیے زیلنسکی کو بہت حد تک مشکلات کا علم تھا لیکن اوول آفس کی پریس کانفرنس میں جو کچھ ہوا اس کا کسی کو بھی ادراک نہیں تھا۔امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو باور کرایا کہ صدر ٹرمپ یوکرین کو انتہائی تباہ کن ہتھیار مہیا نہ کرتے تو یوکرین چند دنوں میں ہی ڈھیر ہو جاتا۔ صدرٹرمپ نے کہا کہ آپ جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں۔یہ بھی کہا کہ آپ جنگ جاری رکھ کر تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہیں۔
صدر زیلنسکی تھوڑی ہی دیر میں سمجھ گئے کہ ماحول انتہائی ناخوشگوار اور Hostile ہے،کہ اب انھیں اسی پریس کانفرنس کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔اس لیے انھوں نے بہادری دکھائی اور جھکے نہیں۔آخر کار یہ کانفرنس بد مزگی پر ختم ہو گئی۔یوکرین کے صدر کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام تھا جسے کینسل کر دیا گیا۔یوکرین اور امریکا کے مابین نایاب معدنیاتRare earth minerals کی ڈیل پر دستخط ہونے تھے،یہ ڈیل بھی نہیں ہوئی اور یوکرین کے صدر کو کہہ دیا گیا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے چلے جائیں۔کسی مہمان صدر کے ساتھ یہ بہت ہی انوکھا اور غیر معمولی پہلا واقعہ ہے۔
واشنگٹن میں صدر زیلنسکی کی بہت سبکی ہوئی لیکن اس سے یہ ہوا کہ سارے یورپی ممالک یوکرین کی حمایت میں اکٹھے ہو گئے۔یوکرینی صدر بتدریج عوامی مقبولیت کھوتے جا رہے تھے۔جنگ شروع ہونے کے چند مہینے بعد ان کی مقبولیت 78فیصد تھی جو دسمبر2024میں گھٹ کر صرف57فیصد رہ گئی۔امریکا کے دورے کے فوراً بعد یوکرینی عوام اپنے صدر کے ہمنوا بن گئے ہیں۔ان کے خیال میں صدر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی مفادات پر کوئی سودا نہیں کیا۔
امریکا،یورپ اور یوکرین تینوںکے لیے ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال ہے۔امریکا یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ سے جلد از جلد فارغ ہوکر اپنی تمام تر توجہ اور قوت بحرِ ہند و ساؤتھ چائنا سی کی طرف کرنا چاہتا ہے تاکہ تمام تر وسائل اور فراغت کے ساتھ چین کی روز افزوں قوت و اثر کے سامنے بند باندھ سکے۔امریکا اپنے نیٹو اتحادیوں کو بھی نہیں گنوانا چاہے گالیکن یورپی ڈیمانڈ کو پورا کرنابھی مشکل ہے۔
یورپ کے لیے امریکا کے بغیر یورپی سلامتی اور یوکرین کی جنگ میں کامیابی صرف ایک خواب ہے۔یوکرین جنگ تو ختم کرنا چاہے گا لیکن امریکی سیکیورٹی گارنٹی کے بغیر نہیں۔امریکی حمایت کے بغیر نیٹو کا مستقبل بھی سوالیہ نشان ہو گا۔نیٹو کے بغیر یورپی ممالک کو روس امن سے محروم رکھے گا۔
اطلاعات کے مطابق امریکا نے یوکرین کی فوجی امداد روک دی ہے۔ یوکرین امریکی فوجی مدد کے بغیر اگلے کچھ ماہ جنگ تو جاری رکھ سکتا ہے لیکن اس کے بعداسلحے کے بغیر خوب پتائی ہوگی۔تمام یورپی ممالک یوکرین کے ساتھ ہیں لیکن یہ سب مل کر بھی سیکیورٹی گارنٹی نہیں دے سکتے۔یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ یہ یورپی اتحاد جلدی کمزور ہو جائے گا۔
یوکرینی صدر سبکی کے باوجود وائٹ ہاؤس واپس جا کر نایاب معدنیات ڈیل پر دستخط کے لیے تیار ہیں لیکن امریکا شاید پھر بھی یوکرین کو سیکیورٹی گارنٹی نہ دے۔ساری صورتحال میں صدر پیوٹن شاداں و فرحاں ہونگے۔آنے والے دنوں میںشطرنج کا یہ کھیل انتہائی دلچسپ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی گارنٹی یورپی ممالک امریکا یورپ صدر زیلنسکی نیٹو اتحاد کہ امریکا یوکرین کی یوکرین کے وائٹ ہاؤس امریکا کے انھوں نے کے ساتھ کے بغیر رہا ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف