وفاقی کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
وفاقی وزیروں اور وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں 188 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، وفاقی وزراء نے اپنی اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی۔ وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے الاؤنس اور تنخواہوں کے ایکٹ 1975ء میں ترمیم کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ وفاقی وزیروں اور وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں 188 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، وفاقی وزراء نے اپنی اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی۔ وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے الاؤنس اور تنخواہوں کے ایکٹ 1975ء میں ترمیم کی گئی، نئے بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور مشیر کی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار ہوگی، اس سے پہلے وفاقی وزیر کی تنخواہ 2 لاکھ اور وزیر مملکت کی 1 لاکھ 80 ہزار تھی۔ وفاقی وزیر کی تنخواہ میں 159 فیصد جبکہ وزیر مملکت اور مشیر برائے وزیراعظم کی تنخواہوں میں بھی 188 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی۔ ترمیم 1975ء کے ایکٹ کی مختلف شقوں میں کی گئی، وزراء کے الاؤنس، گاڑی، دفتر وغیرہ تنخواہوں کے علاوہ ہے، ترمیم کے بعد وزراء کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کابینہ کے چار 4 فروری کے اجلاس سے مذکورہ سمری کو آخری وقت میں ایجنڈے سے نکال دیا گیا تھا، کابینہ ایجنڈے سے سمری کو نکالنے کا مقصد عوام اور میڈیا تنقید سے بچنا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں میں اضافے کی وفاقی وزراء وفاقی وزیر مملکت اور کی منظوری
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔