پاکستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک)کہیں دھوپ تو کہیں گہرے بادل،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، خطہ پوٹھوہار اور اسلام آباد میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم خشک جبکہ میدانی علاقوں میں دن کے اوقات میں گرم رہنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد اور گرد و نواح میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی ہے،مری، گلیات اور گرد و نواح میں مطلع ابرآلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے
، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک جبکہ دن کے دوران گرم رہنے کی توقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، وزیرستان، کوہاٹ، کرک، لکی مروت، بنوں اور ڈی آئی خان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج سے 27مارچ تک بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کاامکان ہے،ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری اورژالہ باری کی بھی توقع ہے۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کے علاوہ کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، چمن، مستونگ، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، سبی، خضدار، چاغی اور نوشکی میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ بعد از دوپہر بالائی اضلاع میں جھکڑ چلنے کا امکان ہے۔آج کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔
آزادکشمیر میں منکی پاکس کے 2 مثبت کیسز رپورٹ، الرٹ جاری، علاقے میں لاک ڈاون
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تیز ہواو ں اور گرج چمک کے ساتھ بارش گرج چمک کے ساتھ بارش کی کے بیشتر اضلاع میں میں مطلع جزوی مطلع جزوی ا کا امکان ہے علاقوں میں کی توقع ہے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔