مانسہرہ:جاپانی ایمبسی کی گاڑی کی ٹکر سے پولیس وین کھائی میں جاگری،2 خواتین سمیت 9 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
مانسہرہ میں چاپانی ایمبیسی کی گاڑی کے بریک فیل ہوگئے جس کے بعد وہ پولیس کی پروٹوکول وین سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں پولیس وین کھائی میں جاگری، حادثے میں 2 لیڈی کانسٹیبلز سمیت 9 اہلکار زخمی ہوگے۔
پولیس کے مطابق چاپانی ایمبیسی کی گاڑی کے بریک فیل ہوگئے جس کے بعد وہ آگے چلنے والی پولیس وین سے ٹکرا گئی، حادثہ جھنڈوال شنکیاری سڑک افتتاح سے واپسی پر پیش آیا۔
زخمی پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حادثہ میں دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم چاپانی ایمبیسی کی گاڑی میں سوارتمام افراد معجزانہ طورپر محفوظ رہے۔
مقامی پولیس کے مطابق پولیس وین حادثہ کے بعد ایس ایچ او شنکیاری سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوگئے، ڈی پی او مانسہرہ نے زخمی اہلکاروں کی عیادت کے لیے اسپتال کا فوری دورہ کیا۔
شنکیاری کے علاقے مکڑھا جھنڈوال میں پولیس وین کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں ایس ایچ او تھانہ شنکیاری کیڈٹ ثاقب، پی اے ایس آئی حمزہ سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
زخمیوں میں کانسٹیبل شہباز، جواد، یونس، عبد الواجد، فرمان شاہ، جاوید جب کہ لیڈی کانسٹیبل ثناء اور زینب بھی شامل ہیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مانسہرہ شفیع اللہ گنڈا پور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو اور ریفرل کے عمل کی نگرانی کے احکامات جاری کیے، زخمی اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد آر ایچ سی شنکیاری سے گنگ عبداللہ ٹیچنگ اسپتال مانسہرہ منتقل کیا گیا۔
ڈی پی او مانسہرہ شفیع اللہ گنڈا پور نے زخمی اہلکاروں کی عیادت کے لیے فوری طور پر اسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے انفرادی طور پر تمام زخمی جوانوں کی خیریت دریافت کی۔
ڈی پی او مانسہرہ نے اسپتال انتظامیہ سے ملاقات کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ زخمی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے جوان ہمارا فخر ہیں، ان کی جلد صحت یابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پولیس فورس اپنے جوانوں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی اہلکاروں اہلکار زخمی پولیس وین ڈی پی او کی گاڑی کے بعد
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں