ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے، جانیے کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔ حال ہی میں یہ صورتحال امریکا میں مشہور فاسٹ فوڈ چین ٹاکو بیل کے ساتھ بھی پیش آئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر مذاق بن جانے پر اس نے اپنی ڈرائیو تھرو سروسز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر نظرثانی شروع کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ریستوران چین کے اے آئی نظام نے عجیب و غریب غلطیاں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بے قابو اے آئی ماڈل بلیک میل بھی کرنے لگے، کنٹرول کیسے ممکن ہے؟
ٹاکو بیل کے جس اے آئی نظام کا ذکر ہو رہا ہے وہ دراصل ایک ’وائس اسسٹنٹ‘ ہے جو امریکا میں سینکڑوں ڈرائیو تھرو ریستورانوں پر نصب کیا گیا ہے۔ جب گاہک اپنی گاڑی میں بیٹھے مائیک پر آرڈر دیتے ہیں تو انسانی ملازم کے بجائے ایک خودکار اے آئی سسٹم ان کی آواز کو پہچان کر آرڈر درج کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد آرڈر لینے کے عمل کو تیز، مؤثر اور انسانی غلطیوں سے پاک بنانا تھا۔
تاہم حالیہ تجربات سے پتا چلا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم ہر وقت درست کام نہیں کرتا۔ بعض اوقات یہ گاہک کی بات کو غلط سمجھ لیتا ہے یا بار بار ایک ہی سوال دہرا کر پریشان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس نظام کی مزاحیہ اور ناقص کارکردگی کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں جس کے بعد ٹاکو بیل اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔
ایک ویڈیو میں ایک صارف نے مذاق میں 18 ہزار پانی کے گلاس مانگے جس سے سسٹم کریش کر گیا۔ ایک اور ویڈیو میں ایک ناراض گاہک کو بار بار اے آئی یہ کہتا رہا کہ اس مشروب کے ساتھ آپ کیا پینا چاہیں گے؟
ٹاکو بیل نے سنہ 2023 سے اب تک 500 سے زائد ریستورانوں میں یہ ٹیکنالوجی متعارف کروائی تھی جس کا مقصد غلطیوں کو کم کرنا اور آرڈرز کو تیز بنانا تھا مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
مزید پڑھیے: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟
کمپنی کے چیف ڈیجیٹل اینڈ ٹیکنالوجی آفیسر ڈین میتھیوز نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کبھی یہ مجھے مایوس کرتا ہے اور کبھی حیران۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت کچھ سیکھ رہے ہیں لیکن اب ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ اے آئی کو کہاں استعمال کیا جائے۔
میتھیوز نے تسلیم کیا کہ مصروف اوقات میں انسان ہی بہتر آرڈر لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیم کو تربیت دے رہی ہے کہ کب اے آئی کو استعمال کرنا ہے اور کب خود مداخلت کرنی ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک انسٹاگرام ویڈیو جسے اب تک 2 کروڑ 15 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے میں اے آئی ایک سادہ آرڈر کو بار بار غلط سمجھتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اے آئی نے کھانے پینے کے آرڈرز میں ایسی بڑی غلطیاں کی ہوں۔
گزشتہ سال میکڈونلڈز کو بھی اپنے ڈرائیو تھرو سےاس وقت اے آئی ہٹانا پڑا جب اے آئی نے ایک آرڈر میں آئس کریم میں غلطی سے ’بیکن‘ شامل کر دیا جو کہ عموماً سور کے گوشت سے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک آرڈر میں غلطی سے سینکڑوں ڈالر کے چکن نگٹس ڈال دیے گئے۔
مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
اگرچہ اے آئی صرف گاہک کی آواز سن کر آرڈر درج کرتا ہے مگر کھانا آخرکار انسان ہی تیار کرتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھتا ہے کہ آئس کریم جیسے میٹھے آئٹم میں گوشت والا آئٹیم شامل کرنا انسانی عملے کی جانب سے بھی ایک غفلت تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں تیزی اور دباؤ کے ماحول میں عملہ ہر آرڈر کی باریکی سے جانچ نہیں کرتا اور بعض اوقات وہ غیر معمولی آرڈرز کو بھی درست مان کر بنا دیتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف اے آئی پر انحصار کرنا اور انسانی جانچ کے بغیر کھانے تیار کرنا خطرناک نتائج دے سکتا ہے۔
اگرچہ کچھ کلپس میں اے آئی کی ناکامی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن ٹاکو بیل کا دعویٰ ہے کہ اب تک 20 لاکھ آرڈر کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی آرڈر سسٹم ٹاکو بیل فاسٹ فوڈ چین ریستوران میں اے آئی کا استعمال میکڈونلڈز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ا رڈر سسٹم ریستوران میں اے ا ئی کا استعمال ریستورانوں میں سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کرتا ہے اے ا ئی
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت