پیٹاگونیا میں ڈائنوسار کے دور کے مگرمچھ کی باقیات دریافت
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
ماہرینِ متحجرات نے جنوبی پیٹاگونیا کے کوریلو فارمیشن سے Kostensuchus atrox نامی ایک خوفناک ترین مگرمچھ نما جانور کی باقیات دریافت کی ہیں تقریباً 70 لاکھ سال قبل ڈائنوسار سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ جانور صرف 3.5 میٹر (تقریباً 11.5 فٹ) لمبا اور تقریباً 250 کلوگرام (550 پاؤنڈ) وزنی تھا
اس کا مُنہ چوڑا اور مضبوط جبڑا، تیز اور کٹے ہوئے دانتوں سے بھرا ہوا تھا جو گوشت کو کاٹنے کے لیے مؤثر تھے اور جانور کو ایک حقیقی گوشتخوربناتے تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی ابتدائی ٹانگیں سیدھی اور مضبوط تھیں، جو شکار کی پیروی اور نشانہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی تھیں۔ اس نے ممکنہ طور پر درمیانے یا چھوٹے ڈائنوسار کو بھی شکار بنایا ہوگا
کوریلو فارمیشن ایک ایسا ایکو سسٹم والا خطہ تھا جہاں میسو زوئک دور میں موسمی طور پر مرطوب اور گرم حالات تھے۔ پانی سے بھری وادیوں میں ڈائنوسار، سمندری ٹرٹلز، مینڈک اور دیگر ممالیہ جات موجود تھے
Kostensuchus atrox ایک غالب شکاری جانور تھا اور علاقائی ایکو سسٹم میں اس کا اثر ماحولیاتی ڈھانچے پر بہت اہم تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔