صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فورا واپس لے؛ صومالیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج WhatsAppFacebookTwitter 0 27 December, 2025 سب نیوز

صومالیہ(آئی پی ایس )صومالیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔الجزیرہ کو انٹرویو میں صومالیہ کے وزیر خارجہ علی عمر نے اسرائیل کے متنازع ملک صومالی لینڈ کو علیحدہ ریاست تسلیم کرنے کو اپنی خودمختاری کے خلاف اور ناقابلِ برداشت جارحیت قرار دیا۔صومالی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ایک مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

ادھر فلسطین کی وزارتِ خارجہ نے بھی صومالیہ کے مقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس سے قبل صومالی لینڈ کو فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھ چکا ہے جو فلسطینیوں کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔افریقی اور عرب ممالک بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا دراصل فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے منصوبے سے جڑا ہے۔

صومالیہ کے وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کے اس اقدام کو ریاستی جارحیت اور صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتی ہے اور اس کے خلاف تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔علی عمر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام ہمارے عوام کے لیے کبھی قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ہم اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع میں متحد ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والے اپنے اس اقدام کو فوری طور پر واپس لے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔

صومالیہ کا یہ شدید ردِعمل ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے باضابطہ طور پر صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔یاد رہے کہ صومالی لینڈ کی حکومت متعدد بار اسرائیل کو یقین دلا چکی ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہیں گے اور اپنے یہاں آبادکاری میں اسرائیل کی مکمل حمایت کریں گے۔

دوسری جانب صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے فلسطین کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہ کرنے کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کے اس فیصلے کی پیروی نہیں کریں گے۔عالمی سطح پر مخالفت کے باوجود صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور انداز میں جشن منایا کہ اسرائیل پہلا ملک ہے جس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے۔

یاد رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں سابق صومالی حکمران محمد سیاد بری کے دور میں ہونے والے مظالم کے بعد خود کو صومالیہ سے الگ ریاست قرار دیا تھا۔آج تک اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہیں کیا تھا البتہ اب اسرائیل اس سلسلے میں پہلا ملک بن گیا ہے۔ایتھوپیا کے ساتھ اسرائیل کے قریبی روابط اور 1977 کی اوگادین جنگ کے پس منظر میں صومالیہ اور اسرائیل کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجرمنی نے سنگین جرائم میں ملوث ایک اور افغان تارکین وطن کو ملک بدر کردیا اگلی خبرحکومت نے عادل راجہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائدکردی انڈر 19سہہ ملکی سیریز: پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے ہرادیا پاکستان میں ایران کے سفیر امیری رضا مقدم کا بے نظیر بھٹو کو 18ویں برسی پر خراج تحسین پی ٹی آئی برطانیہ نے فیلڈ مارشل سے متعلق خاتون کی تقریر سے اظہارلاتعلقی کا اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا حکومت نے عادل راجہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائدکردی جرمنی نے سنگین جرائم میں ملوث ایک اور افغان تارکین وطن کو ملک بدر کردیا افغان صوبے بغلان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا طالبان کے 3 اہلکار ہلاک کرنے کا دعوی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا واپس لے

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ