راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے)قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد/راولپنڈی نے سال 2025ء میں احتساب، مالی ریکوری، ہاؤسنگ ریگولیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ایسی شاندار کامیابیاں حاصل کیں جنہوں نے ادارے کو قومی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ عوامی مفاد اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا اس سال نیب کی ترجیح رہا، جس کے نتائج ریکارڈ کامیابیوں کی صورت میں سامنے آئے۔ریکوری میں ریکارڈ، 121 ارب روپے کی واپسی، 31 ہزار سے زائد متاثرین کو ریلیف ملا۔ نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 121 ارب روپے کی خطیر رقم ریکور کی، جبکہ 25 مختلف مقدمات میں 31 ہزار 290 متاثرین کو 105.

5 ارب روپے کی براہِ راست مالی امداد فراہم کی گئی۔یہ اقدام روایتی تفتیشی نظام سے ہٹ کر متاثرین کی داد رسی اور فوری انصاف کی عکاسی کرتا ہے۔ سرکاری زمین کی واپسی کرتے ہوئے دہائیوں بعد 51 کنال 16 مرلہ بازیاب کرلیا، نیب نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 51 کنال اور 16 مرلہ سرکاری زمین واگزار کرائی، جس کی مالیت تقریباً 29 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ زمین کئی دہائیوں سے غیر قانونی قبضے میں تھی۔منی لانڈرنگ کے خلاف سنگِ میل: پہلی بار AMLA کے تحت مقدمات اور گرفتاریاں کی گئیں۔ 2025ء میں نیب نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) 2010ء کے تحت پہلی بار علیحدہ مقدمات درج کیے۔یہ اقدام منی لانڈرنگ کے خلاف ایک نیا اور مضبوط قانونی فریم ورک ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں نیب کی تاریخ میں پہلی بار AMLA کے تحت گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں، جبکہ متعدد ریفرنسز عدالتوں میں دائر کر دیے گئے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ