سرمایہ کاری سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے: چیئرمین سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبرنگار) چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے خطے کو علاقائی روابط، قدرتی وسائل اور قومی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انفراسٹرکچر، تجارت، معدنیات اور رابطہ کاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور قومی ترقی کو فروغ ملے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے یہ بات ایوان صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان (NWB-18) کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بلوچستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کو ملانے والا ایک اہم خطہ ہے۔ حکومت امن، ترقی، عوامی شمولیت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل سرمایہ کاری کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جبکہ ریکوڈک اور سی پیک سے وابستہ منصوبے صوبائی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی، استعداد کار میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیں گے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل انسانی امداد، بحالی کے اقدامات اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔