سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں جعلسازی، دھوکا دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کرپشن الزامات: سابق نائب تحصیلدار نجف حمید جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
ایف آئی آر کے مطابق نجف حمید، جو اس وقت حلقہ پٹواری اسلام آباد تعینات تھے، نے ریونیو افسر عبدالظہور اور خالد منیر کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات کے ذریعے ایک کنال قیمتی سرکاری و نجی اراضی بوگس انتقال کے ذریعے منتقل کی۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اسلام آباد پٹوار سرکل میں اراضی ریکارڈ کی جانچ کے دوران جعلسازی کا انکشاف ہوا۔ ملزمان نے جعلی رجسٹری اور بوگس انتقالات کے ذریعے ایک کنال زمین کی ملکیت تبدیل کی، تاہم کاغذات میں صرف 10 مرلے کی منتقلی ظاہر کی گئی۔
مزید پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گھر سے ایک کروڑ 7 لاکھ روپے کی چوری
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ زمین کی فردِ ملکیت اور سرکاری ریکارڈ میں یہ جعلسازی 2009 اور 2010 کے دوران کی گئی۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور دیگر ممکنہ کرداروں کے تعین کے لیے ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نجف حمید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ر فیض حمید سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید ایف آئی حمید کے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔