صبح 6 بجے ای میل نے ادارے کو پریشان کردیا، ملازم کو بلاکر معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
نیدرلینڈز میں کام کے اوقات سے ہٹ کر ای میل بھیجنے کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس نے یورپی ممالک میں ورک لائف بیلنس کی مضبوط روایت کو اجاگر کر دیا ہے۔
ایک ایکس صارف کے مطابق اس نے صبح 6 بجے دفتر سے متعلق ای میل بھیجی جس پر کمپنی کی انتظامیہ نے نہ صرف میٹنگ طلب کی بلکہ ملازم سے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ آیا وہ کسی غیر ضروری کام کے دباؤ میں تو نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دفتر میں کرسی پر مسلسل بیٹھ کر کام کرنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے؟
صارف کے مطابق انتظامیہ نے اس بات پر باقاعدہ معذرت کی کہ کہیں ان کے رویے یا کام کے طریقۂ کار سے ملازم کو یہ تاثر نہ ملا ہو کہ اسے معمول سے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے نیدرلینڈز میں ملازمین کی فلاح اور ذہنی صحت کو دی جانے والی ترجیح کی واضح مثال قرار دیا۔
First time I sent a work email at 6AM in the Netherlands, they called a meeting to discuss whether I was experiencing unnecessary work pressure of any kind, and they apologised if they gave me that impression ???????? https://t.
— Equivocator™ (@Oluwanonso_Esq) January 5, 2026
یہ بیان ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا تھا جس میں نیدرلینڈز میں کام کرنے والے ایک ملازم نے دعویٰ کیا کہ اس کے امریکی مینیجر نے اسے شام 5 بجے لاگ آف کرنے اور دفتر کے اوقات کے بعد کام نہ کرنے پر باضابطہ سرزنش کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور اوقات کار بھی کم کرنے کا اعلان
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ کئی افراد نے یورپ، بالخصوص نیدرلینڈز اور بیلجیم میں ورک لائف بیلنس کی تعریف کی جبکہ امریکا اور ایشیا کے بعض ممالک میں طویل اوقاتِ کار پر تنقید کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دفتر میں کام کے اوقات کام کے اوقات نیدرلینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دفتر میں کام کے اوقات کام کے اوقات نیدرلینڈ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔