جاپان کے نیوکلیئر ریگولیٹری ادارے کے ایک ملازم کا سرکاری اسمارٹ فون گم ہو گیا ہے، جس میں حساس نوعیت کی رابطہ معلومات موجود تھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فون ممکنہ طور پر چین میں گم ہوا۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین کی جانب سے جاپان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، خصوصاً اس بیان کے بعد جس میں وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے نومبر میں کہا تھا کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو جاپان عسکری ردِعمل دے سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور طاقت کے ذریعے قبضے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیے: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا

دوسری طرف ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) رواں ماہ کے آخر میں دنیا کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کو دوبارہ چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔

نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ادارے کے ایک ملازم کا حکومت کی طرف سے اسمارٹ فون گم ہوا ہے، جو بڑی آفات مثلاً شدید زلزلوں کے دوران رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع نومبر میں ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جاپانی ادارے کو دی گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق یہ فون بنیادی طور پر کالز اور پیغامات کے لیے تھا اور اس کے ذریعے نیوکلیئر ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ تاہم جاپانی میڈیا کے مطابق اس فون میں نیوکلیئر سیکیورٹی ڈویژن کے عملے کے نام اور رابطہ تفصیلات موجود تھیں، جو کام کی حساسیت کے باعث عام نہیں کی جاتیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازم نے 3 نومبر کو شنگھائی کے ایک ہوائی اڈے پر سیکیورٹی چیک کے دوران ہینڈ کیری سامان سے اشیا نکالتے وقت فون کھو دیا۔ 3 دن بعد فون کے گم ہونے کا علم ہوا، مگر اسے تلاش نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ فون کی ریموٹ لاکنگ یا ڈیٹا حذف کرنے کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہو سکی کیونکہ فون نیٹ ورک کی حد سے باہر تھا۔

یہ بھی پڑھیے: چین کی جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر پابندی، ٹوکیو کا سخت ردِعمل

این آر اے اس وقت ٹیپکو کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے، جس کے تحت کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ چلانے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 2011 میں شدید زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما جوہری حادثے کے نتیجے میں جاپان نے نیوکلیئر پاور بند کر دی تھی۔

تاہم وسائل کی کمی کا شکار جاپان اب فوسل فیول پر انحصار کم کرنے، 2050 تک کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنے اور مصنوعی ذہانت سے بڑھتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی کو دوبارہ فعال کرنا چاہتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایٹمی پروگرام جاپان چین موبائل فون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایٹمی پروگرام جاپان چین موبائل فون کے مطابق کے ایک کے لیے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی