جاپان کے ایٹمی پروگرام کے ملازم کا حساس معلومات پر مبنی اسمارٹ فون چین میں گم ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
جاپان کے نیوکلیئر ریگولیٹری ادارے کے ایک ملازم کا سرکاری اسمارٹ فون گم ہو گیا ہے، جس میں حساس نوعیت کی رابطہ معلومات موجود تھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فون ممکنہ طور پر چین میں گم ہوا۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین کی جانب سے جاپان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، خصوصاً اس بیان کے بعد جس میں وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے نومبر میں کہا تھا کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو جاپان عسکری ردِعمل دے سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور طاقت کے ذریعے قبضے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیے: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا
دوسری طرف ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) رواں ماہ کے آخر میں دنیا کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کو دوبارہ چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔
نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ادارے کے ایک ملازم کا حکومت کی طرف سے اسمارٹ فون گم ہوا ہے، جو بڑی آفات مثلاً شدید زلزلوں کے دوران رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع نومبر میں ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جاپانی ادارے کو دی گئی تھی۔
اہلکار کے مطابق یہ فون بنیادی طور پر کالز اور پیغامات کے لیے تھا اور اس کے ذریعے نیوکلیئر ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ تاہم جاپانی میڈیا کے مطابق اس فون میں نیوکلیئر سیکیورٹی ڈویژن کے عملے کے نام اور رابطہ تفصیلات موجود تھیں، جو کام کی حساسیت کے باعث عام نہیں کی جاتیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازم نے 3 نومبر کو شنگھائی کے ایک ہوائی اڈے پر سیکیورٹی چیک کے دوران ہینڈ کیری سامان سے اشیا نکالتے وقت فون کھو دیا۔ 3 دن بعد فون کے گم ہونے کا علم ہوا، مگر اسے تلاش نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ فون کی ریموٹ لاکنگ یا ڈیٹا حذف کرنے کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہو سکی کیونکہ فون نیٹ ورک کی حد سے باہر تھا۔
یہ بھی پڑھیے: چین کی جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر پابندی، ٹوکیو کا سخت ردِعمل
این آر اے اس وقت ٹیپکو کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے، جس کے تحت کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ چلانے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 2011 میں شدید زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما جوہری حادثے کے نتیجے میں جاپان نے نیوکلیئر پاور بند کر دی تھی۔
تاہم وسائل کی کمی کا شکار جاپان اب فوسل فیول پر انحصار کم کرنے، 2050 تک کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنے اور مصنوعی ذہانت سے بڑھتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی کو دوبارہ فعال کرنا چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایٹمی پروگرام جاپان چین موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایٹمی پروگرام جاپان چین موبائل فون کے مطابق کے ایک کے لیے
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔