شامی فوج اور باغی ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپیں میں شدت، حلب کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
شام کے شہر حلب میں شامی فوج اور کرد قیادت میں شامل شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال بگڑ گئی، جس کے بعد حکام نے شہر کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حلب میں جھڑپیں جاری، شامی حکومت کی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت
شامی حکام کے مطابق حلب کے علاقوں الاشرفیہ، شیخ مقصود، بنی زید، السریان، الحلک اور المیدان میں جمعرات کے روز کرفیو نافذ کیا گیا، جو تاحکمِ ثانی برقرار رہے گا۔ حلب انٹرنل سیکیورٹی کمانڈ نے بتایا کہ یہ اقدام شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور جان و مال کو لاحق خطرات سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ کرفیو کے دوران ان علاقوں میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔
BLOODY escalation as Syrian army carries out strikes, ground battles against US-backed Kurdish SDF in Aleppo
Dozens killed and injured as clashes enter 3rd day
Kurdish neighborhoods now 'UNDER SIEGE' as civilians appeal for evacuation
SDF fighters footage from Sabereen news pic.
— RT (@RT_com) January 8, 2026
عہدیداروں کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں الاشرفیہ اور شیخ مقصود سے ایک لاکھ سے زائد شہری اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کئی رہائشیوں نے بتایا کہ سنائپر فائرنگ اور گولہ باری کے باعث لوگ نقل مکانی تو کرنا چاہتے ہیں، مگر راستوں میں جان کے خطرے کے باعث خوف زدہ ہیں۔
اس ہفتے حلب میں جاری لڑائی کے دوران کم از کم 22 افراد ہلاک اور 173 زخمی ہو چکے ہیں۔ شامی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ڈی ایف نے شہری علاقوں کو توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، تاہم کرد قیادت میں شامل فورسز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانی نقصان حکومت نواز دھڑوں کی اندھا دھند گولہ باری کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ
شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف سے وابستہ مسلح گروہوں کے انخلا کے بعد حکومتی فورسز نے الاشرفیہ کے بعض علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی ہے، تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی بدامنی کو روکا جا سکے۔
ادھر حلب کے ایک اسپتال سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شدید گولہ باری کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی برطرفی کے بعد حلب میں یہ اب تک کی شدید ترین لڑائی ہے۔
دوسری جانب ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ حلب میں ٹینکوں اور توپ خانے کی تعیناتی اور شہری آبادی کی بے دخلی نے دمشق حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل محض طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے جامع سیاسی فریم ورک اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایس ڈی ایف حلب حلب کرفیو شام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ڈی ایف حلب کرفیو
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔