data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا نے ایران میں جاری احتجاجی لہر کے پیش نظر اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں احتجاج دن بدن شدت اختیار کر رہا ہے جس کے باعث سیکورٹی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور تشدد کے امکانات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کے لیے سخت ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں جان و مال کو لاحق ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں، متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے سخت اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش جیسے حالات نے عام شہریوں، بالخصوص غیر ملکیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل ہمارے شہریوں کی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں اور آرمینیا یا ترکی کے راستے محفوظ انخلا کو ترجیح دیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر شہری رابطے کے متبادل ذرائع پہلے سے طے کر لیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں اہل خانہ اور سفارتی حکام سے رابطہ ممکن رہے۔

امریکی سفارتخانے نے دہری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کے لیے خصوصی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران دہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ایسے افراد ایران میں صرف ایرانی شہری تصور کیے جاتے ہیں۔ سفارتخانے کے مطابق دہری شہریت رکھنے والے افراد ایران سے روانگی کے لیے اپنے ایرانی پاسپورٹ کا استعمال کریں تاکہ کسی قانونی یا انتظامی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

حکام نے مزید کہا ہے کہ جو امریکی شہری کسی وجہ سے ایران میں قیام پر مجبور ہیں، وہ احتجاجی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شرکت نہ کریں اور زیادہ سے زیادہ محفوظ مقامات پر رہائش اختیار کریں۔ سفارتخانے نے زور دیا ہے کہ شہری اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھیں، کیونکہ صورتحال کسی بھی وقت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سفارتخانے نے ایران میں گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیراہتمام ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھارتی پولیس اور ‘ریپڈ ایکشن فورس’ کے تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد مظاہرین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس اور بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹس کے مطابق، 20 جولائی کو نوجوانوں کے اس احتجاج کے دوران فورسز کے مبینہ پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والے کم از کم 4 افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر طلبہ ہیں۔

طالب علم کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ

رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے نجف گڑھ کے رہائشی اور ‘دہلی یونیورسٹی اسکول آف اوپن لرننگ’ کے 19 سالہ طالب علم سہیل لوچھب کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ 21 جولائی کو ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (AIIMS) میں ان کا آپریشن کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ سہیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق سہیل مستقبل میں پولیس افسر بننے کا عزم رکھتے تھے۔

حساس مقام پر پیلٹ پھنسنے سے نوجوان کی حالت تشویشناک

ایک اور افسوسناک واقعے میں 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ‘لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جراحی کے بعد ان کے چہرے سے متعدد پیلٹس نکال لیے۔ تاہم، گردن کی شریان کے بالکل قریب انتہائی حساس مقام پر پھنسے ایک پیلٹ کو تاحال نہیں نکالا جا سکا، جس سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

حکام کی تردید اور تحقیقات کا آغاز

مظاہرین اور متاثرین نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کا الزام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’ریپڈ ایکشن فورس‘پر عائد کیا ہے، جسے مظاہرے سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، سیکیورٹی حکام نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم عوام اور میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد سی آر پی ایف انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز ماضی میں پیلٹ گن کا استعمال زیادہ تر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ نئی دہلی کے مرکزی شہر میں اس کا استعمال ایک غیر معمولی اور شدید متنازع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری