ایران میں پھنسے راولپنڈی کے دو طالبعلم، ایمبیسی سے انٹرنیٹ کی سہولت کی منتظر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایران میں پھنسے راولپنڈی کے دو طالبعلم، ایمبیسی سے انٹرنیٹ کی سہولت کی منتظر WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
راولپنڈی:(آئی پی ایس) ایران میں کشیدہ حالات کے باعث راولپنڈی سے براستہ ایران جارجیہ جانے والے دو طالبعلم پھنس گئے ہیں۔
پھنسے ہوئے طالبعلموں میں 22 سالہ شمس طارق شامل ہیں، جو پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے، جبکہ دوسرا 34 سالہ عادل حسین ہے، جو شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔ دونوں کا تعلق راولپنڈی کے علاقے ٹاہلی موہڑی سے ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث یہ دونوں طالبعلم جارجیہ نہیں پہنچ پائے اور پاکستان ایمبیسی کے باہر 10 دن سے پھنسے ہوئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر ایمبیسی ایران میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے تو دونوں طالبعلم اپنے سفر کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ایران میں پھنسے طالبعلموں کے لواحقین شدید کرب میں مبتلا ہیں اور انہوں نے وفاقی حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا پاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذ ایران میں پھنسے پاکستانی مشکلات کا شکار، وزیراعظم سے مدد کی اپیل امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا ایرانی قیادت اور عوام پر مکمل اعتماد ہے،پرامن اورمستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے، ترجمان دفتر خارجہ عالمی درجہ بندی میں پاکستانی پاسپورٹ 126 سے 98 نمبر پر آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں پھنسے انٹرنیٹ کی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔