Islam Times:
2026-07-24@13:44:39 GMT

امریکہ و اسرائیل ایک بار پھر ناکام ہوگئے

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

امریکہ و اسرائیل ایک بار پھر ناکام ہوگئے

اسلام ٹائمز: تہران، تبریز، اصفہان، اراک، کرامان، زاہدان، قم، مشہد غرض جگہ جگہ لاکھوں لوگ اسلامی انقلاب کی حمایت میں نکل آئے۔ کل شام کو جب اس کی ویڈیوز میڈیا پر آنے لگیں تو اہل ایمان کے دلوں کو سکون آیا اور اہل فسق و نفاق کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ویسے جو جھٹکا اسٹار لنک کو بند کرکے مغربی ٹیکنالوجی کو پہنچایا گیا ہے وہ یقینا انہیں یاد رہے گا۔ مغرب و امریکہ کو جلد سمجھ آ جائے گی کہ اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کے مقابلے کے لوگ آگئے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس 

امریکہ اور اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر صورت میں ایران کے درپے ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے کامیابی سے پچاس سال مکمل کرنے کو ہے اور یہ ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپ اندازہ لگائیں صیہونی ریاست کا وزیراعظم عوام کو بھڑکا رہا ہے کہ ریاست پر حملہ آور ہو جائیں۔ مغربی میڈیا کو فالو کرنے والے بڑی حیرانی سے چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ ایک دم جیسے کسی نے کوئی چیز فیڈ کردی ہو اور ہر جگہ ایک ہی طرح کی خبروں اور ٹویٹس کا سیلاب آ گیا۔ اچھے خاصے لوگ پریشان ہوگئے کہ جانے ایران میں کیا ہو رہا ہے۔ بہت سے نام نہاد تجزیہ نگار جو زندگی میں کبھی ایران نہیں گئے اور ایرانی نظام کی الف سے بھی واقف نہیں ہیں وہ بھی بڑے بڑے بھاشن دے رہے تھے اور اپنی طرف سے تو گویا کہانی ختم کا اعلان کر چکے تھے۔

یہ دراصل ان فرقہ پرستوں اور مغرب کے پجاریوں کی خواہشات ہیں جنہیں تجزیہ کا نام دے کر پیش کیا جاتا رہا۔ امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ بڑی باریک بینی سے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہر بار نئے انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس بار امریکی صدر سے بار بار بیان دلوائے گئے کہ بس ہم مدد کے لیے پہنچ ہی رہے ہیں۔ یہ لطیفہ بھی ہوا کہ شاہ کا بیٹا مغرب کے جمہوری معاشرے کا نمائندہ بن کر ایران کے لیے لانچ کر دیا گیا ہے۔ ویسے حالات اتنے بھی برے نہیں ہوئے اور ایرانی قوم کی یاد داشت میں وہ جبر ابھی تک تازہ ہے جو شاہ کی حکومت نے روا رکھا تھا۔

ایران میں بازار بزرگ سے شروع ہونے والا احتجاج بالکل درست تھا، رہبر معظم اور ایران کے صدر نے ان کے احتجاج کو درست قرار دیا اور جہاں جہاں لوگ مہنگائی کی وجہ سے اور کرنسی کے ریٹ کے بار بار گر جانے کی وجہ سے نکلے اور اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا یہ ان کا حق تھا۔ اس لیے ہر جگہ پر انتظامیہ نے نا صرف اس حق کو تسلیم کیا بالکل مظاہرین کو سہولتیں فراہم کی گئیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ان جائز احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں موساد کے ایجنٹ گھس آئے اور انہوں نے ریاستی اداروں کے لوگوں اور بہت سے مقامات پر نہتے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جلاؤ گھیراؤ کرنے لگے اور ان کا خاص ٹارگٹ مساجد اور حسینیہ تھے۔ اسی لیے تہران میں بہت سی مساجد کو شہید کیا گیا اور کتاب اللہ کی بھی توہین کی گئی۔

ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ عام احتجاج کرنے والوں میں شامل ہوکر احتجاج کو ہائی جیک کر لیتے تھے اس لیے اصل احتجاج کرنے والوں نے فوراً احتجاج کی کال ہی واپس لے لی۔ اس کے بعد یہ لوگ رات کے کسی پہر نکلتے اور تھوڑی دیر کے لیے ہنگامہ کرکے غائب ہو جاتے۔ یہ ایسے شقی القلب تھے کہ سوا سو کے قریب ریاستی اہلکاروں کو گولیوں سے شہید کر دیا۔ کرمان میں ایک تین سال کی بچی کو گولی مار کر شہید کر دیا جس کے جنازہ میں لاکھوں کی تعداد میں اہل کرمان نے شرکت کی۔

پراپیگنڈا کس قدر اثر انداز ہوتا ہے اس کا اندازہ عاصمہ شیرازی صاحبہ کے اس کالم سے لگا سکتے ہیں وہ ایران میں تھیں اور اس وقت کی صورتحال بیان کر رہی ہیں جب مغربی میڈیا کی پیروکار دنیا تہران اور ایران کو جلا چکی تھی اور ایران کی قیادت ملک سے باہر جانے کی تیاریوں میں تھی۔ اس وقت کی زمینی صورتحال عاصمہ شیرازی صاحبہ کی زبانی سنیے۔ "تہران پہنچتے ہی پاکستان سے خبر ملی کہ مظاہرین سڑکوں پر ہیں اور حالات کشیدہ، توڑ پھوڑ اور ہنگامے عروج پر ہیں لہٰذا فکر مندی یقینی تھی تاہم یہ اطلاعات ہم نے حیرت سے سُنیں کیونکہ ایئر پورٹ سے ہوٹل تک کا سفر بےحد پرسکون تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی میڈیا جس تواتر سے خبریں دے رہا تھا وہ نہ صرف حیران کُن تھا بلکہ زمینی حقائق سے قطعی مختلف بھی۔ احتجاج کو انتشار جبکہ محاذ آرائی کو لڑائی کی شکل دی جا چُکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں مظاہرین مشتعل ہوئے، گھیراؤ جلاؤ اور سرکاری املاک بھی نذر آتش کی گئیں مگر جس انداز میں آغاز سے ہی اس احتجاج کو پیش کیا گیا وہ حیران کُن تھا یا شاید کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ۔ اگر ہم ایران میں خود موجود نہ ہوتے اور صورت حال کو بطور صحافی دیکھ نہ رہے ہوتے تو یقیناً پروپیگنڈا مشینری کاشکار ہوچُکے ہوتے۔ بہرحال بعد میں آنے والے حالات نے ہمارے شکوک کو یقین میں بدل دیا۔"

یورپی ممالک سے باقاعدہ بڑی تعداد میں رقوم منتقل کی گئیں اور لوگوں میں تقسیم ہوئیں کہ وہ حکومت کے خلاف جلاو گھیراؤ میں شریک ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی انتظامیہ نے پرامن احتجاج کا پورا موقع دیا کہ یہ لوگ درست ہو جائیں اور ریاست سے ٹکرانے سے رک جائیں۔ پیر کا دن اسلامی جمہوریہ ایران میں عام لوگوں کی حفاظت کرتے شہید ہونے والے ان اہلکاروں کی یاد منانے کے لیے رکھا گیا اور ایک طرح سے ان چند شرپسند عناصر کو عملی جواب دینا بھی مقصود تھا۔

پیر کے دن جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی باغیرت مسلم عوام نے متحد ہوکر امریکہ اور اسرائیل کو جواب دیا یقیناً ان تک پہنچ گیا ہے۔ تہران، تبریز، اصفہان، اراک، کرامان، زاہدان، قم، مشہد غرض جگہ جگہ لاکھوں لوگ اسلامی انقلاب کی حمایت میں نکل آئے۔ کل شام کو جب اس کی ویڈیوز میڈیا پر آنے لگیں تو اہل ایمان کے دلوں کو سکون آیا اور اہل فسق و نفاق کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ویسے جو جھٹکا اسٹار لنک کو بند کرکے مغربی ٹیکنالوجی کو پہنچایا گیا ہے وہ یقینا انہیں یاد رہے گا۔ مغرب و امریکہ کو جلد سمجھ آ جائے گی کہ اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کے مقابلے کے لوگ آگئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران ایران میں اور ایران احتجاج کو ایران کے گیا ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران