Express News:
2026-07-24@13:39:15 GMT

اے آر رحمان نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں، کنگنا رناوت

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

بالی ووڈ اداکارہ اور رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت اور نامور موسیقار اے آر رحمان کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کنگنا رناوت نے الزام عائد کیا ہے کہ اے آر رحمان نے نہ صرف ان کی ہدایت کردہ فلم ایمرجنسی کے حوالے سے ان سے ملاقات سے انکار کیا بلکہ اسے پروپیگنڈا فلم بھی قرار دیا۔

کنگنا نے سوشل میڈیا پر اے آر رحمان کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں اور انہیں ان پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی وابستگی کے باعث انڈسٹری میں تعصب کا سامنا رہتا ہے اور اے آر رحمان اس کی واضح مثال ہیں۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ *ایمرجنسی* کو ناقدین اور اپوزیشن رہنماؤں نے سراہا، اس کے باوجود موسیقار کا رویہ منفی رہا۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آر رحمان پہلے ہی فلم *چھاوا* کو تقسیم پیدا کرنے والی فلم قرار دے چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اے آر رحمان

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان