بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بلوچستان میں فتنہ الہندوستان بھارتی پشت پناہی سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشیشوں میں مصروف ہیں۔
کالعدم فتنہ الہندوستان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے بےشمار نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیل کر انکا مستقبل تاریک کردیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دُکھیاری ماں کے سوالات نے فتنہ الہندوستان کی سفاکیت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دکھی ماں نے بتایا کہ دہشت گرد سخی بخش کا والد شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہے۔
https://dailymumtaz.
دہشت گرد سخی بخش کو غربت میں پڑھایا لکھایا تاکہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بنے، دہشت گرد سخی بخش نے ہمیں اپنے گمراہ کن کاموں سے درد اور تکلیف میں مبتلا کیا۔
ماہرین کے مطابق آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی والدہ کا بیان بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے طریقۂ کار کو بے نقاب کرتا ہے۔ کالعدم “فتنہ الہندوستان” اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں محرومی کا بیانیہ بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے اور بندوق اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقصد بلوچ ماؤں کی گودیں اجاڑنا اور نوجوانوں کا مستقبل تباہ و برباد کرنا ہے۔ ماہرین سیکیورٹی اداروں کے آپریشن کے نتیجے میں بلوچستان میں دہشت گردی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان
پڑھیں:
ٹانک ،چیک پوسٹ پر حملہ ، 12 فوجیوں سمیت 15 شہید،12 خوارجی ہلاک
ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔
بیان کے مطابق حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شامل ہیں، جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وطن کے دفاع، قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے۔