مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند ہندوگروہوں کے پرتشدد اور نفرت انگیز اقدامات میں جو تشویشناک اضافہ ہوا ہے، اس نے عالمی ضمیرکو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
دراصل، اقلیتوں کے خلاف اس نفرت انگیزی کی جڑیں سانحہ بابری مسجد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں پیوست ہیں۔ اس تنازعے کی جڑیں پانچ صدیوں پرانی بابری مسجد کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ مسجد 1528 میں مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے دور میں تعمیرکی گئی تھی اور صدیاں بیت گئیں، یہ مقامی مسلمانوں کے لیے ایک اہم مرکزِ عبادت رہی۔ تاریخی ریکارڈز اس بات کے گواہ ہیں کہ مسجد کی تعمیرکسی خالی جگہ پر ہوئی تھی اور خود عدالت بھی اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دے سکی کہ یہ کسی مندرکوگرا کر بنائی گئی تھی۔
تاہم، انیسویں صدی کے اواخر میں، برطانوی استعمارکے زیر سایہ، اس جگہ کو مذہبی جھگڑوں کا مرکز بنا دیا گیا۔ 1859میں انگریزوں نے مسجد کے صحن کو باڑ لگا کر تقسیم کردیا، جس نے اس زمین کو متنازع بنا کر مستقبل کے بڑے تصادم کی بنیاد ڈالی، یوں تنازع ایک انتظامی فیصلہ بن کر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ بھارت کی آزادی کے بعد، تنازعے نے ایک خوفناک سیاسی شکل اختیار کی۔ سب سے تباہ کن واقعہ 22 اور 23 دسمبر 1949 کی درمیانی شب کو پیش آیا، جب رات کے اندھیرے میں مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئیں۔
اس منظم اور غیر قانونی عمل کو مقامی عناصر نے ’’ الہامی ظہور‘‘ کا رنگ دیا، جس پر انتظامیہ نے کارروائی کرنے کے بجائے مسجد کو ’’متنازع‘‘ قرار دے کر تالا لگا دیا اور مسلمانوں کو عملاً عبادت کے حق سے محروم کردیا۔ یہ قدم ریاست کی آئینی غیر جانبداری اور سیکولر روح کی صریحاً خلاف ورزی تھا،کیونکہ اس طرح ایک غیر قانونی عمل کے ذریعے ہی ایک فریق کو بالواسطہ فائدہ پہنچا دیا گیا۔
1980 کی دہائی کے بعد اس تنازعے نے مکمل طور پر ایک سیاسی ہتھیار کی شکل اختیارکر لی۔ وشوا ہندو پریشد (VHP)، راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی قیادت میں ہندوتوا تنظیموں نے ’’رام مندر تحریک‘‘ کو شدت کے ساتھ شروع کیا، جس کا مقصد محض رام مندرکی تعمیر نہیں تھا، بلکہ ہندو قوم پرستی کو بھارتی سیاست کے مرکز میں لانا تھا۔ اس تحریک نے منظم طریقے سے تاریخی شواہد پر عقیدے کو برتری دینے کی روایت کو فروغ دیا۔ لال کرشن اڈوانی کی ’’ رتھ یاترا‘‘ نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکایا، جس کے نتیجے میں کئی مسلم کش فسادات ہوئے اور سیاسی ماحول مکمل طور پر فرقہ واریت کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ تحریک ایک مضبوط عوامی دباؤ اور سیاسی طاقت بن گئی، جس نے عدالتی اور ریاستی فیصلوں پر براہ راست اثر ڈالنا شروع کیا۔
اس تمام پس منظرکا سب سے افسوسناک اور تباہ کن نتیجہ 6 دسمبر 1992کو نکلا، جب ریاستی انتظامیہ اور پولیس کی مکمل سرپرستی میں، دن دہاڑے صدیوں پرانی تاریخی مسجد کو مسمارکردیا۔ یہ عمل صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں تھا، بلکہ بھارتی آئین کے سیکولر وعدوں، عدالتی احکامات کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی بھی مسماری تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں مسلم کش فسادات ہوئے، جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے اور بھارت کی عالمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ اس مجرمانہ عمل کے ذمے داروں کو آج تک سزا نہیں دی جا سکی، جنھوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا،کیونکہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے ڈھانچے کی حفاظت کی یقین دہانی کی تھی۔
تین دہائیوں کی قانونی اور سیاسی کشمکش کے بعد، نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس تنازعے کو ایک نئی شکل دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کئی حیرت انگیز تضادات کو جنم دیا۔ ایک طرف اس نے تسلیم کیا کہ مسجدکی تعمیر مندر توڑکر نہیں کی گئی، 1949 میں مورتیوں کا نصب کرنا غیر قانونی تھا، اور 1992 میں مسجد کو شہید کرنا ایک مجرمانہ کارروائی تھی، مگر ان تمام حقائق کے اعتراف کے باوجود، عدالت نے متنازعہ زمین پر ہندوؤں کی صدیوں پرانی آستھا (ایمان) اور تسلسل کے ساتھ کی جانے والی پوجا کے دعوے کو قانونی شواہد اور تاریخی حقائق پر فوقیت دی۔ ناقدین کے نزدیک، یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کی بجائے اکثریتی جذبات کے دباؤ کے تحت دیا گیا، جس ’’ مجرم نے غلطی بھی تسلیم کی ہو ، مگر انعام مجرم کودے کر‘‘ کی مثال قائم کردی۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی مبہم رپورٹ کو بھی اسی اکثریتی بیانیے کے حق میں استعمال کیا گیا، حالانکہ وہ حتمی طور پرکسی مندرکے انہدام کو ثابت ہی نہیں کرتی تھی۔اعلیٰ ترین انڈین عدالت نے مسلمانوں کوعبادت گاہ کے متبادل کے طور پر ایودھیا سے دور دھنی پورگاؤں میں جو پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا حکم دیا، وہ قانونی طور پر’’ معاوضہ‘‘ تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک سیاسی سمجھوتہ زیادہ محسوس ہوا۔
یہ زمین نہ تو چھینی گئی تھی، اور نہ ہی یہ مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ کا نعم البدل ہوسکتی تھی، نہ ہی اس سے اقلیتی مسلم کمیونٹی کے احساسِ محرومی کوکم کیا جا سکتا تھا۔ مسلم کمیونٹی کے اندر اس زمین کو قبول کرنے پر شدید بحث ہوئی،ایک طبقے نے اسے حق کی مکمل نفی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی بات کی، جب کہ مرکزی سنی وقف بورڈ نے اسے ’’ قانون کی حکمرانی کا احترام‘‘ سمجھتے ہوئے قبول کیا۔
یہ قبولیت دراصل ایک دانشمندانہ حکمت عملی تھی کہ وہ اکثریتی سیاسی ماحول میں مزید تصادم اور اشتعال سے بچیں اور اس کے بجائے، آئینی اور پرامن جدوجہد کے راستے کو مضبوط کریں۔ دھنی پور میں نئے اسلامی ثقافتی مرکز، اسپتال اور مسجد کی تعمیرکا منصوبہ مسلمانوں کے لیے ایک علویاتی اور نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا پُرامن اعلان ہے کہ کمیونٹی ماضی کے زخموں سے نکل کر، اب تعمیر اور فلاح کے نئے مراکز قائم کرنا چاہتی ہے، جہاں توجہ تعلیم اور صحت پر مرکوز ہو۔
یہ دراصل تشدد اور تخریب کے بجائے آئینی اور تعمیراتی ردعمل کی علامت ہوگی، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایودھیا میں ایک تاریخی مرکزکا نقصان، ان نئے مراکزکے ذریعے پورا نہیں ہوسکتا، نہ ہی یہ بابری مسجد کے تاریخی اور علامتی وزن کا مقابلہ کرسکتا ہے۔فیصلے کے بعد بھارتی مسلمانوں کے طرزِ عمل نے عالمی دنیا کے لیے ایک اہم سبق دیا۔ شدید صدمے اور ناانصافی کے احساس کے باوجود،کمیونٹی نے مکمل طور پر پُرامن اور آئینی راستہ اپنایا،کوئی بڑا فساد یا پُرتشدد احتجاج نہیں ہوا۔
یہ خاموش ردعمل ان کے آئینی شعور اور سخت سیاسی حالات میں حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس نے مزید خونریزی کو ٹال دیا۔ تاہم، اس فیصلے نے کمیونٹی کو شدید سیاسی حاشیائی پن کا شکارکردیا،کیونکہ ہندو توا قوم پرستی کی لہر اس کامیابی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسجد کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔