Express News:
2026-07-24@13:31:01 GMT

ایودھیا سے دھنی پور تک

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند ہندوگروہوں کے پرتشدد اور نفرت انگیز اقدامات میں جو تشویشناک اضافہ ہوا ہے، اس نے عالمی ضمیرکو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

دراصل، اقلیتوں کے خلاف اس نفرت انگیزی کی جڑیں سانحہ بابری مسجد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں پیوست ہیں۔ اس تنازعے کی جڑیں پانچ صدیوں پرانی بابری مسجد کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ مسجد 1528 میں مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے دور میں تعمیرکی گئی تھی اور صدیاں بیت گئیں، یہ مقامی مسلمانوں کے لیے ایک اہم مرکزِ عبادت رہی۔ تاریخی ریکارڈز اس بات کے گواہ ہیں کہ مسجد کی تعمیرکسی خالی جگہ پر ہوئی تھی اور خود عدالت بھی اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دے سکی کہ یہ کسی مندرکوگرا کر بنائی گئی تھی۔

تاہم، انیسویں صدی کے اواخر میں، برطانوی استعمارکے زیر سایہ، اس جگہ کو مذہبی جھگڑوں کا مرکز بنا دیا گیا۔ 1859میں انگریزوں نے مسجد کے صحن کو باڑ لگا کر تقسیم کردیا، جس نے اس زمین کو متنازع بنا کر مستقبل کے بڑے تصادم کی بنیاد ڈالی، یوں تنازع ایک انتظامی فیصلہ بن کر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ بھارت کی آزادی کے بعد، تنازعے نے ایک خوفناک سیاسی شکل اختیار کی۔ سب سے تباہ کن واقعہ 22 اور 23 دسمبر 1949 کی درمیانی شب کو پیش آیا، جب رات کے اندھیرے میں مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئیں۔

اس منظم اور غیر قانونی عمل کو مقامی عناصر نے ’’ الہامی ظہور‘‘ کا رنگ دیا، جس پر انتظامیہ نے کارروائی کرنے کے بجائے مسجد کو ’’متنازع‘‘ قرار دے کر تالا لگا دیا اور مسلمانوں کو عملاً عبادت کے حق سے محروم کردیا۔ یہ قدم ریاست کی آئینی غیر جانبداری اور سیکولر روح کی صریحاً خلاف ورزی تھا،کیونکہ اس طرح ایک غیر قانونی عمل کے ذریعے ہی ایک فریق کو بالواسطہ فائدہ پہنچا دیا گیا۔

1980 کی دہائی کے بعد اس تنازعے نے مکمل طور پر ایک سیاسی ہتھیار کی شکل اختیارکر لی۔ وشوا ہندو پریشد (VHP)، راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی قیادت میں ہندوتوا تنظیموں نے ’’رام مندر تحریک‘‘ کو شدت کے ساتھ شروع کیا، جس کا مقصد محض رام مندرکی تعمیر نہیں تھا، بلکہ ہندو قوم پرستی کو بھارتی سیاست کے مرکز میں لانا تھا۔ اس تحریک نے منظم طریقے سے تاریخی شواہد پر عقیدے کو برتری دینے کی روایت کو فروغ دیا۔ لال کرشن اڈوانی کی ’’ رتھ یاترا‘‘ نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکایا، جس کے نتیجے میں کئی مسلم کش فسادات ہوئے اور سیاسی ماحول مکمل طور پر فرقہ واریت کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ تحریک ایک مضبوط عوامی دباؤ اور سیاسی طاقت بن گئی، جس نے عدالتی اور ریاستی فیصلوں پر براہ راست اثر ڈالنا شروع کیا۔

اس تمام پس منظرکا سب سے افسوسناک اور تباہ کن نتیجہ 6 دسمبر 1992کو نکلا، جب ریاستی انتظامیہ اور پولیس کی مکمل سرپرستی میں، دن دہاڑے صدیوں پرانی تاریخی مسجد کو مسمارکردیا۔ یہ عمل صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں تھا، بلکہ بھارتی آئین کے سیکولر وعدوں، عدالتی احکامات کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی بھی مسماری تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں مسلم کش فسادات ہوئے، جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے اور بھارت کی عالمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ اس مجرمانہ عمل کے ذمے داروں کو آج تک سزا نہیں دی جا سکی، جنھوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا،کیونکہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے ڈھانچے کی حفاظت کی یقین دہانی کی تھی۔

تین دہائیوں کی قانونی اور سیاسی کشمکش کے بعد، نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس تنازعے کو ایک نئی شکل دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کئی حیرت انگیز تضادات کو جنم دیا۔ ایک طرف اس نے تسلیم کیا کہ مسجدکی تعمیر مندر توڑکر نہیں کی گئی، 1949 میں مورتیوں کا نصب کرنا غیر قانونی تھا، اور 1992 میں مسجد کو شہید کرنا ایک مجرمانہ کارروائی تھی، مگر ان تمام حقائق کے اعتراف کے باوجود، عدالت نے متنازعہ زمین پر ہندوؤں کی صدیوں پرانی آستھا (ایمان) اور تسلسل کے ساتھ کی جانے والی پوجا کے دعوے کو قانونی شواہد اور تاریخی حقائق پر فوقیت دی۔ ناقدین کے نزدیک، یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کی بجائے اکثریتی جذبات کے دباؤ کے تحت دیا گیا، جس ’’ مجرم نے غلطی بھی تسلیم کی ہو ، مگر انعام مجرم کودے کر‘‘ کی مثال قائم کردی۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی مبہم رپورٹ کو بھی اسی اکثریتی بیانیے کے حق میں استعمال کیا گیا، حالانکہ وہ حتمی طور پرکسی مندرکے انہدام کو ثابت ہی نہیں کرتی تھی۔اعلیٰ ترین انڈین عدالت نے مسلمانوں کوعبادت گاہ کے متبادل کے طور پر ایودھیا سے دور دھنی پورگاؤں میں جو پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا حکم دیا، وہ قانونی طور پر’’ معاوضہ‘‘ تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک سیاسی سمجھوتہ زیادہ محسوس ہوا۔

یہ زمین نہ تو چھینی گئی تھی، اور نہ ہی یہ مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ کا نعم البدل ہوسکتی تھی، نہ ہی اس سے اقلیتی مسلم کمیونٹی کے احساسِ محرومی کوکم کیا جا سکتا تھا۔ مسلم کمیونٹی کے اندر اس زمین کو قبول کرنے پر شدید بحث ہوئی،ایک طبقے نے اسے حق کی مکمل نفی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی بات کی، جب کہ مرکزی سنی وقف بورڈ نے اسے ’’ قانون کی حکمرانی کا احترام‘‘ سمجھتے ہوئے قبول کیا۔

یہ قبولیت دراصل ایک دانشمندانہ حکمت عملی تھی کہ وہ اکثریتی سیاسی ماحول میں مزید تصادم اور اشتعال سے بچیں اور اس کے بجائے، آئینی اور پرامن جدوجہد کے راستے کو مضبوط کریں۔ دھنی پور میں نئے اسلامی ثقافتی مرکز، اسپتال اور مسجد کی تعمیرکا منصوبہ مسلمانوں کے لیے ایک علویاتی اور نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا پُرامن اعلان ہے کہ کمیونٹی ماضی کے زخموں سے نکل کر، اب تعمیر اور فلاح کے نئے مراکز قائم کرنا چاہتی ہے، جہاں توجہ تعلیم اور صحت پر مرکوز ہو۔

یہ دراصل تشدد اور تخریب کے بجائے آئینی اور تعمیراتی ردعمل کی علامت ہوگی، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایودھیا میں ایک تاریخی مرکزکا نقصان، ان نئے مراکزکے ذریعے پورا نہیں ہوسکتا، نہ ہی یہ بابری مسجد کے تاریخی اور علامتی وزن کا مقابلہ کرسکتا ہے۔فیصلے کے بعد بھارتی مسلمانوں کے طرزِ عمل نے عالمی دنیا کے لیے ایک اہم سبق دیا۔ شدید صدمے اور ناانصافی کے احساس کے باوجود،کمیونٹی نے مکمل طور پر پُرامن اور آئینی راستہ اپنایا،کوئی بڑا فساد یا پُرتشدد احتجاج نہیں ہوا۔

یہ خاموش ردعمل ان کے آئینی شعور اور سخت سیاسی حالات میں حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس نے مزید خونریزی کو ٹال دیا۔ تاہم، اس فیصلے نے کمیونٹی کو شدید سیاسی حاشیائی پن کا شکارکردیا،کیونکہ ہندو توا قوم پرستی کی لہر اس کامیابی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسجد کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی