رفح کراسنگ مستقل بنیادوں پر کھولی جائے، غزہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں غزہ میں قائم وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اس وقت 20 سے ہزار سے زائد زخمی و مریض انتظار میں ہیں کہ انہیں اس پٹی سے باہر علاج کیلئے منتقل کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کی پٹی میں قائم وزارت صحت نے ایک بیان کے ذریعے اعلان کیا کہ "رفح" کراسنگ مستقل بنیادوں پر کھولی جائے تاکہ ہزاروں فلسطینی زخمیوں و مریضوں کو طبی امداد پہنچائی جائے اور ان کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکے۔ وزارت صحت نے کہا کہ اگر مذکورہ راہداری، 24 گھنٹے کھلی رہے تو امدادی طبی سرگرمیاں آسانی سے انجام دی جا سکتی ہیں۔ اس وقت 20 سے ہزار سے زائد زخمی و مریض انتظار میں ہیں کہ انہیں غزہ کی پٹی سے باہر علاج کے لئے منتقل کیا جا سکے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ رفح کراسنگ کا جزوی اور وقتی طور پر کھولا جانا، غزہ کی تباہ کن انسانی اور صحت کی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس سے ہزاروں افراد کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے رفح کراسنگ، مکمل طور پر بند اور سخت پابندیوں کا شکار تھی۔ اسے چند روز قبل محدود پیمانے اور کنٹرول شدہ میکانزم کے ساتھ دوبارہ کھولا گیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ابتدائی مرحلے میں صرف بہت کم تعداد میں مریض، زخمی اور پہلے سے منظور شدہ افراد کو یہاں سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ پیش رفت اس وقت عمل میں آئی جب امدادی اور بین الاقوامی اداروں نے بارہا خبردار کیا کہ ضروری اشیاء کی ترسیل پر جاری پابندیوں سے امدادی گروہوں کے کام میں مشکلات آ رہی ہیں۔ نیز اس پٹی میں انسانی صورت حال بھی مزید بگڑ رہی ہے۔ امداد کی عدم ترسیل اور امدادی سرگرمیوں کی اجازت کے بغیر، رفح کراسنگ کو محدود بنیادوں پر کھولنا، شہری آبادی کی فوری ضروریات کو پورا نہیں کر سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔