نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2025 سب نیوز

گوادر: نیو گوادر ایئرپورٹ پر کراچی سے آنے والی پہلی پرواز لینڈ کر گئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ نے پہلی پرواز کا استقبال کیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے 503 نے 11 بج کر 16 منٹ پر نیو گوادر ایئر پورٹ پر لینڈ کیا، اس موقع پر پی کے 503 کو واٹر سیلوٹ بھی دیا گیا۔ قومی ایئر لائن نے گوادر کی پرواز کے لیے حسب سابق اے ٹی آر طیارہ استعمال کیا۔

نیو گوادر ایئر پورٹ پر 3658 میٹر طویل اور 75 میٹر چوڑے رن وے پر بڑے جہاز لینڈ کرنے کی گنجائش ہے۔ 4300 ایکڑ پر پھیلا گوادر ایئرپورٹ رقبے کے حساب سے پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے۔

نیو گوادر ایئر پورٹ کے اہم خدو خال اور خصوصیات کیا ہیں؟
نیو گوادر ائیر پورٹ کا ورچوئل افتتاح 16 اکتوبر 2024 کو چین کے وزیر اعظم لی چیانگ اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کیا تھا، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے جس کی تعمیر 2019 میں شروع کی گئی تھی۔

پاکستان نے یورپ سے ایشیا جانے والے تمام چھوٹے ہوائی جہازوں کو گوادر ایئر پورٹ پر کم سے کم لاگت پر ری فیولنگ کی پیشکش بھی کی ہے، جس سے شارجہ دبئی کے ایئر ٹریفک کا رخ پاکستان کی طرف مڑنے کا امکان ہے، یوں ایئر لائن کمپنیوں کا کم از کم 2 گھنٹے کا وقت اور فیول بچے گا جبکہ اس عمل سے ابتدائی طور پر پاکستان کو 500 ارب کی آمدن ہوگی۔

گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ گوادر بندرگاہ سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر گوردانی کے مقام پر تعمیر کیا گیا ہے، یہ ایئرپورٹ پاکستان اور چین کی دوستی کا ایسا شاہکار ہے جسے کم و بیش ایک ہزار پاکستانی اور 200 چینی انجینئرز نے 4 ہزار 300 ایکڑ پر تعمیر کیا ہے، جس پر 55 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔

ایئرپورٹ کا رن وے 3 ہزار 800 میٹر لمبا اور 45 میٹر چوڑا ہے، بین الاقوامی معیار کا جدید ٹرمینل 14 ہزار اسکوائر میٹر پر 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی اور اندرون ملک سفر کے لیے ٹرمینلز بنائے گئے ہیں۔

ایئر پورٹ سے کا سب سے بڑا فائدہ دوست ملک چین کو ہوگا جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی تجارتی مقاصد کے لیے اس ایئر پورٹ کا استعمال کر سکیں گے، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر بس A300 بوئنگ بی 747 سمیت دیگر طیاروں کو لینڈنگ کی سہولت حاصل ہوگی۔

گوادر ایئرپورٹ سے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے بھی بحری اور زمینی ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں کے ہزاروں افراد بھی روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں گے۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق نئے ہوائی اڈے کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کے حکومتی ادارے چائنا کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی کے ذیلی ادارے چائنا ایئرپورٹ کنسٹرکشن گروپ کو دیا گیا تھا۔

اتھارٹی کے مطابق گوادر ایئر پورٹ کے لیے 42 فٹ اونچے اور 14 ہزار مربع میٹر پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ خوبصورت اور اسمارٹ ٹرمینل بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے جو ابتدائی طور پر سالانہ 4 لاکھ سے زائد مسافروں کو ہینڈل کرسکے گی، کارگو کی صلاحیت سالانہ 30 ہزار ٹن ہے، مسافروں کو ٹرمینل سے پرواز تک جانے کے لیے برج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کئی ماہ قبل مکمل کرلی گئی تھی،اس دوران ایئر کنگ بی 700 کی ایک آزمائشی پرواز نئے ہوائی اڈے پر کامیابی سے اترچکی تھی۔

تین ماہ کے دورانیے تک جاری رہنے والے اس عمل میں معیار، قواعد و ضوابط، ایئرپورٹ کے ڈیزائن، آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، ایئرپورٹ کو پاکستان، عمان اور چین کا جوائنٹ وینچر سنبھالے گا تاہم اس کے انتظام اور آپریشن کی نگرانی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی اور ایئرپورٹ کو اوپن اسکائی پالیسی کے تحت چلایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایئرپورٹ پر پہلی پرواز نیو گوادر لینڈ کر

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا