مقبوضہ کشمیر میں پراسرار طور پر 17 ہلاکتیں؛ بھارتی فوج ملوث ہوسکتی ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2025 سب نیوز

سری نگر (آئی پی ایس )مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری کے گاں بدھل میں پراسرار طور پر 17 افراد ہلاک ہوگئی۔ بی بی سی کے مطابق “مرنے والوں میں 13 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اموات 7 دسمبر سے 19 جنوری کے درمیان ہوئیں۔مرنے والے بچوں میں 6 بہن بھائی تھے جن کی عمریں سات سے پندرہ سال کے درمیان تھیں۔متاثرین میں پہلے بخار اور کپکپی ظاہر ہوتی ہے پھر بے ہوشی کے بعد چند گھنٹوں میں موت واقع ہوجاتی ہے۔

گا ئو ں میں پے درپے اموات کے بعد خوف کی لہر دوڑ گئی۔ گا ئو ں کے قریب ایک کنویں کے پانی میں کیڑے مار دوائیوں کے نشانات ملے جس کے بعد کنویں کو سیل کر دیا گیا۔اگرچہ طبی ماہرین نے وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن کو مسترد کیا ہے، لیکن اشارے ملتے ہیں کہ مرنے والوں میں نیوروٹوکسنز موجود تھے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے پرنسپل ڈاکٹر امرجیت سنگھ بھاٹیہ نے انادولو کو بتایا کہ ہمیں موت کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹس سے پتہ چلتا ہیکہ کچھ نیوروٹوکسن پائے گئے ہیں۔

ان اموات کے پیچھے ممکنہ طورپر زہریلا مواد ہے جو کہ بھارتی فوج کے کردار کو بھی مشکوک بناتا ہے،کشمیر میڈیا سروس کے مطابق متاثرہ آبادی کیطرف سے پینے کے پانی کے ذرائع کیحوالے سے شکوک وشبہات کااظہارکیا جا رہا ہے کہ یہ پانی زہر آلود ہو سکتا ہے۔ مقامی لوگوں نے بھارتی فوج کے قریبی کیمپ پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔

بھارتی فوج ممکنہ طور پر حکمران بی جے پی ۔ آر ایس ایس اسٹیبلشمنٹ کی ایما پرجان بوجھ کر پانی کی سپلائی کو آلودہ کر سکتی ہے۔” کشمیر میڈیا سروس سے گفتگو میں شہریوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کیخیال میں یہ پانی مجاہدین استعمال کر سکتے ہیں۔مقامی آبادی کو علاقے سے بے دخل کرنے کے لیے بھی بھارتی فوج پانی میں زہر ملا سکتی ہے تاکہ علاقے میں فوجی کارروائیوں کے لئے راستہ ہموار ہوجائے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں نے اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا